ترجمہ و تفسیر سورۃ 33 الأحزاب آیت 59 از محمد امین اکبر

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا [٣٣:٥٩]

”اے نبیؐ، اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے“

تفسیر محمد امین اکبر

جلابیب وہ چادر ہوتی ہے جو ڈوپٹے کے اوپر ڈالی جائے۔ ایسی چادر کو گھروں میں تو لینے کا حکم نہیں کیونکہ گھروں میں دوسرے گھر والوں کے سامنے جو چادر لینے کا حکم ہے اسے خمار کہتے ہیں جس سے سر ڈھانپے کے علاوہ سینہ وغیرہ ڈھانپنے کا کام لیا جاتا ہے خمار کا ذکر پیچھے سورۃ النور کی آیت 31 میں آ چکا ہے۔ ڈوپٹے کو بھی خمار کہا جا سکتا ہے ۔ گھر سے باہر جہاں عام لوگوں کی نظر پڑنے کا اندیشہ ہو اسے ڈوپٹے کے اوپر لینا چاہیے۔ موجودہ دور میں برقعہ یا سکارف  جلابیب کا نعم البدل ہے۔نبی کریم ﷺ کے زمانے میں مدینہ میں  یہود کی لونڈیوں اور خواتین  میں پردہ کا رواج اتنا زیادہ  نہ تھا۔ کفار زیادہ تر لونڈیوں کو ستاتے تھے۔ مسلمان عورتوں کو ذہنی اذیت دینے کے لیے وہ مسلمانوں کی عورتوں پر آوازے کستے  تھے۔ اس پر جب اُن کی باز پرس کی جاتی تو کہتے کہ میں تو اپنی لونڈی سمجھا تھا یا فلاں کی لونڈی یا پھر یہ کہ مجھے معلوم نہ تھا کہ یہ عورت جو جا رہی ہے مسلمان ہے۔ آج کل چھوٹی عمر میں بچے بھی سکولوں میں ایسی ہی شرارتیں کرتے ہیں، ایک بچہ پیچھے سے جا کر دوسرے بچے کی گردن پر تھپٹر مار دیتا ہے اور پھر ایک دم کہتا ہے کہ سوری یار میں سمجھا کہ میرا دوسرا دوست ہے ۔اس آیت میں ایسی کسی بھی صورتحال پیدا ہونے کے مواقع ختم کر دئیے کہ مسلمان عورتوں کو کہا گیا ہے کہ وہ چادر اوڑھ لیں تاکہ پتا چل جائے کہ یہ مسلمان خواتین جا رہی ہیں اور یہود انہیں ستا نہ سکیں۔اللہ تعالیٰ  نے قران کریم میں اسی طرح کا ایک حکم سورۃ البقرۃ آیت 104 میں بھی دیا ہے۔ جہاں مسلمانوں کو راعنا کی بجائے انظرنا  کا لفظ استعمال کرنے کا حکم دیا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ پہلے وجوہات ختم کرنے کی بات کرتے ہیں کوئی سخت حکم دیتے ہیں۔ اس  آیت میں مسلمان خواتین کو کفار کی خواتین اور لونڈیوں سے الگ نظر آنے کا حکم دیا گیا ہے۔مسلمانوں کی لونڈیاں بھی چونکہ اہل ایمان تھی اس لیے وہ بھی لازماً اس حکم کے نازل ہونے کے بعد چادریں لیتی ہونگی، اس آیت میں فرق مسلمان اور کفار کی خواتین(بشمول لونڈیاں اور عام خواتین) کے درمیان بتایا گیا ہے۔اس کا مقصد صرف اتنا ہے کہ کفار بہانے بہانے سے مسلمان خواتین کو ستا نہ سکیں۔