قرآن کریم میں عریانیت؟

قرآن کریم میں عریانیت؟
تحریر:محمد امین اکبر
اس وقت بہت افسوس ہوتا ہے جب کوئی حدیث کی حرمت کو ثابت
کرنے کے لیے قرآن کریم  پر ہی اعتراضات
کرنا شروع کر دیتا ہے۔اس چیز سے بچنا چاہیے۔ایسا کرتے ہوئے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ
جو جواب قرآن کے اِن اعتراضات کا ہے وہی جواب حدیث کے اعتراضات کا ہو گا۔ ایک بات
کو اپنے پلے باندھ لینا چاہیے کہ قرآن کریم کے الفاظ اللہ تعالیٰ کے منتخب کیے
ہوئے الفاظ ہیں، جبکہ احادیث کے الفاظ انسانی الفاظ ہیں، احادیث میں بعض جگہ براہ
راست جو بات نبی کریم ﷺ نے کی وہی ہم تک پہنچائی گئی اور بعض جگہ نبی کریم ﷺ کے
الفاظ کا مفہوم یا الفاظ کو اپنے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ ایسے میں قرآن و
احادیث کےالفاظ کا مقابلہ کرتے ہوئے قرآن پر اعتراض اللہ تعالیٰ پر اعتراض بن جاتا
ہے۔یہ کہنا ہی غلط بات ہے کہ جو جواب قرآن کے اس اعتراض کا ہے وہی حدیث
کے اعتراض کا  ہے
خود میں قرآن پر اعتراض کرنے والی بات ہے۔یاد رکھیں قرآن میں کسی طرح کا بھی کوئی
اعتراض نہیں، ایسا کہنے اور سمجھنے والے منکر قرآن اور غیر مسلم ہونگے۔
ایک صاحب جن کے مسلمان ہونے پر اور صاحب ایمان ہونے پر مجھے
کوئی شک نہیں، ماشاء اللہ سچے پکے مسلمان اور عاشق رسول ﷺ ہیں مگر جذبات آ کر ایسی
بات کہہ گئے جو میرے ذاتی خیال میں کسی کو سمجھانے کے لیے بھی نہیں کرنی چاہیے۔اُن
کا اصل اعتراض اس طرح تھا
احادیث میں عریانی باتیں ھیں تو ایسی بے شمار باتیں
میں آپ کو قرآن سے بھی ثابت کر سکتا ھوں ۔۔۔۔!
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بے حیائی کی باتوں سے بچنے کی
تلقین کی ہے تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم کسی بھی آیت سے کوئی  بھی مفہوم لے کر قرآن کو بے حیائی کی باتوں
والا ثابت کریں۔ اس طرح تو آپ قرآن کو تضاد بیانی والی کتاب ثابت کرنے کی کوشش کر
رہے ہیں۔اس ضمن میں جن آیات سے یہ ثابت کیا گیا ہے وہ اس طرح سے ہیں۔
چند نمونے پیش کرتا ھوں امید کرتا ھوں افاقہ ھوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وربائیبکم التی دخلتم بھن (النساء 23 ) لفظی ترجمہ :- تمھاری وہ ربیبائیں جن
کے اندر تم نے اپنا الہ تناسل داخل کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
الزامی سوال :- کیا اللہ اتنی گندی زبان استعمال کرسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔
اس سوال کا جواب تو پہلے ہی دیا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ
کی زبان کو گندا کہنے  یا سوچنے کا مطلب ہی
اللہ تعالیٰ پر اعتراض اور  قرآن میں تضاد
بیان کرنے کی کوشش ہو گا۔اللہ تعالیٰ کی ذات پاک بہت باحیا ذات ہے، وہ قرآن کریم
میں اس طرح کی بات کے لیے صرف اشارہ دے دیتے ہیں۔جیسے کہ اسی سورۃ النساء کی آیت
23 میں
دَخَلْتُم
 کہہ کر اشارہ کر دیا
گیا ہے۔ اب اس آیت کی تفسیر لکھتے ہوئے تو آلہ تناسل کے دخول کا ذکر کر سکتے ہیں
مگر ترجمہ لکھے ہوئے، جیسا کہ ایک دوست نے لکھا ہے، ایسے ویسے الفاظ لکھیں گے تو
وہ تحریف میں شمار ہونگے کیونکہ یہ کسی بھی الفاظ کا ترجمہ نہیں بلکہ کسی انسان کے
ذاتی خیالات ہیں جن کو بریکٹ میں لکھا جا سکتا ہے تاکہ پتہ چلے کہ یہ ذاتی خیالات
ہیں۔
دَخَلْتُم کا لفظ قرآن کریم میں دخول کے معنوں میں آیا ہے اپنے سیاق
و سباق سے ہر کسی پر اس کا مطلب واضح ہو جاتا ہے
اس لیے اس کےلکھنے سے اللہ تعالیٰ کے قرآن کے لکھے ہوئے کو بے حیائی کہنا
درست نہیں۔دوسری آیات جہاں
دَخَلْتُم آیا ہے اس طرح سے ہیں۔
 قَالَ
رَجُلَانِ مِنَ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمَا ادْخُلُوا
عَلَيْهِمُ الْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوهُ
فَإِنَّكُمْ غَالِبُونَ وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
﴿المائدة:
٢٣﴾
مگر دو انسان جنہیں خدا کا خوف تھا اور ان پر خدا نے
فضل و کرم کیا تھا انہوں نے کہا کہ ان کے دروازے سے داخل
ہوجاؤ –
اگر تم دروازے میں داخل ہوگئے تو
یقینا غالب آجاؤ گے اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر تم صاحبانِ ایمان ہو (
۵: ۲۳)
لَّيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى
الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَن
تَأْكُلُوا مِن بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ
أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ
أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ أَوْ بُيُوتِ
خَالَاتِكُمْ أَوْ مَا مَلَكْتُم مَّفَاتِحَهُ أَوْ صَدِيقِكُمْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ
جُنَاحٌ أَن تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا فَإِذَا دَخَلْتُم
بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِندِ اللَّهِ
مُبَارَكَةً طَيِّبَةً كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ
تَعْقِلُونَ
﴿النور: ٦١﴾
نابینا کے لئے کوئی حرج نہیں ہے اور لنگڑے آدمی کے لئے بھی
کوئی حرج نہیں ہے اور مریض کے لئے بھی کوئی عیب نہیں ہے اور خود تمہارے لئے بھی
کوئی گناہ نہیں ہے کہ اپنے گھروں سے یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماں اور
نانی دادی کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا
اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے
یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا جن گھروں کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیں یا اپنے
دوستوں کے گھروں سے کھانا کھالو …. اور تمہارے لئے اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے
کہ سب مل کر کھاؤ یا متفرق طریقہ سے کھاؤ بس جب گھروں میں
داخل ہو
تو کم از کم اپنے ہی اوپر سلام کرلو کہ یہ پروردگار کی طرف سے
نہایت ہی مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے اور پروردگار اسی طرح اپنی آیتوں کو واضح طریقہ
سے بیان کرتا ہے کہ شاید تم عقل سے کام لے سکو (
۲۴: ۶۱)
اسی طرح سورہ النسا کی آیت میں بھی سیاق و سباق سے دخول
کا  جو مطلب نکلتا ہے وہ سب کو معلوم ہے اس
کے لیے ترجمے میں کسی تحریف کی ضرورت نہیں۔
اور بہت سی ایسی آیات ہیں جہاں اللہ تعالیٰ نے اشاروں
میں بات کی ہے مگر اُن پر بھی  کچھ غیر
مسلموں کی طرف سے بے حیائی پھیلانے کا الزام لگا دیا جاتا ہے
وَيَسْأَلُونَكَ
عَنِ الْمَحِيضِ 
ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا
النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ 
ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ
يَطْهُرْنَ 
ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ
مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ ۚ إِنَّ
اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ [٢:٢٢٢]
اور آپ سے حیض
کے بارے میں پوچھتے ہیں کہہ دو وہ نجاست ہے پس حیض میں عورتوں سے علیحدٰہ رہو اور
ان کے پاس نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک ہو لیں پھر جب وہ پاک ہو جائیں تو ان کے پاس
جاؤ جہاں سے اللہ نےتمہیں حکم دیا ہے بے شک الله توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
اوربہت پاک رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے
مندرجہ بالا آیت
پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ جناب قرآن میں بے حیائی کا لفظ حیص موجود ہے۔ آیت کو
دیکھیں تو معلوم ہو جاتا ہے کہ اگر یہ بے حیائی کا لفظ ہے بھی تو بھی اس کے بارے
میں لوگوں نے حکم پوچھا تھا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ نجاست ہے،
نجاست ہونے میں تو پہلے بھی کسی کو شک نہیں تھا اصل حکم تو یہ ہے کہ اس دوران
عورتوں کے نزدیک نہ جاؤ۔ اس نزدیک جانے میں اشارے میں جو بات کر دی گئی ہے وہ سب
کو معلوم ہے کہ  کیا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہر
گز نہیں کہ اس دوران خود کے اور اپنی عورتوں کے درمیان 10 فٹ کا فاصلہ رکھو۔ اس
آیت کی تفسیر بیان کرنے ہوئے کوئی بھی شخص کچھ بھی بیان کرے اگر ترجمہ کے نام پر
اسی طرح ترجمہ کرے گا جیسے اوپر اعتراض میں بیان کیا گیا ہے تو وہ تحریف کا مرتکب
ہو گا۔
ایک اور آیت جس
میں اللہ تعالیٰ نے اشارے سے بات کرتے ہوئے سب سمجھا دیا ہے یہ ہے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا
نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ
فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا 
ۖ فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ
سَرَاحًا جَمِيلًا [٣٣:٤٩]
اے ایمان والو
جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں طلاق دے دو اس سے پہلے کہ تم انہیں چھوو
تو تمہارے لیے ان پر کوئی عدت نہیں ہے کہ تم ان کی گنتی پوری کرنے لگو سو انہیں
کچھ فائدہ دو اور انہیں اچھی طرح سے رخصت کر دو
اس آیت میں
بتایا گیا ہے کہ طلاق میں عدت کے لیے ضروری ہے کہ مرد نے عورت کو چھوا ہو۔ اس
چھونے سے مراد مباشرت ہے ، نہ کہ بخار دیکھنے کے لیے ہاتھ سے ماتھا چھو لیا تب بھی
طلاق کے بعد عدت ضروری ہو گی۔
اوپر
موجودآیات میں اور اسی طرح بہت سی آیات میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کتنے
حیاوالے ہیں۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی سمجھانے کےلیے ہی سہی اللہ تعالیٰ کے الفاظ
کو بے حیائی سے تشبیہ دے تو وہ آخرت میں اپنا انجام سوچ لے۔
اب ایک دوسری آیت جس کا ترجمہ لکھتے ہوئے دانستہ یا
نادانستہ تحریف کی کوشش کی گئی ہے اس طرح بیان کی ہے۔
و مریم ابنت عمران التی
احصنت فرجھا فنفخنا فیہ من روحنا
(التحریم 62)
لفظی
ترجمہ :-اور یاد کرو مریم بنت عمران کو جس نے اپنی شرمگاہ کو بچاکر رکھا پس ہم نے
اس میں پھونکا اپنی روح کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الزامی
سوال : کیا اللہ کو مریم بنت عمران کی شرمگاہ سے اتنی دلچسپی تھی کہ اس کا ذکر
اپنی کتاب میں کردیا ۔۔۔۔۔؟؟؟ نعوذ باللہ من ذلک احادیث تو عریانیت کی تعلیم دیتی
ہیں اسلئے ان پر لعنت برسائی جاتی ہے اب قران کا بھی کچھ علاج کرو میرے پرویزیو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیاق
وسباق میں دیکھیں تو اللہ تعالیٰ بتا رہا ہے کہ مریم علیہ السلام نے اپنی شرم گاہ
کی حفاظت کی تو اللہ تعالیٰ نے اس میں اپنی روح پھونگ دی۔اب یہ بات کہ اللہ تعالیٰ
کو مریم کی شرم گاہ سے دلچسپی تھی اس لیے ذکر ہے تو  یہ تو سیدھا سیدھا اللہ تعالیٰ اور قرآن کریم
پر اعتراض کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک عضو بنایا ہے اب اس کی حفاظت کے لیے مریم
علیہ السلام کی مثال دے کر قرآن کریم میں دو بار
﴿الأنبياء: ٩١﴾ اور  ﴿التحريم: ١٢﴾ میں کر دیا تو  اس میں کسی
طرح کی بھی  بازاری انداز کی  دلچسپی کو درمیان میں لانے کی کیا ضرورت ہے؟
کیا مریم علیہ السلام کی تعریف میں وہ آیات نظر نہیں آتی جن میں اُن کو جہان کے
لوگوں سے افضل قرار دیا، ان کو صدیقہ اور پاک باز کہا گیا۔ اُن آیات کی رو سے آپ
پھر یہ الزام لگا دیں گے کہ اللہ تعالیٰ کو (نعوذ باللہ) شرم گاہ تو شرم گاہ پوری
مریم سے ہی دلچسپی پیدا ہو گئی؟ ایک اعتراض اس طرح بھی کہ اللہ تعالیٰ نے فرج میں
روح کو پھونکا (نعوذ باللہ)۔ قرآن کریم میں اور بہت سی آیات ایسی ہیں جہاں روح پھونکنے
کا ذکر ہے۔حضرت آدم علیہ السلام میں روح پھونکنے کے حوالے سے ذکر ہے کہ
فَإِذَا
سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ [١٥:٢٩]
پھر جب میں اسے
ٹھیک بنالوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدہ میں گر پڑنا
یہاں
حضرت آدم علیہ السلام میں روح پھونکنے کا ذکر ہے نہ کہ کسی خاص عضو میں۔
ثُمَّ سَوَّاهُ
وَنَفَخَ فِيهِ مِن رُّوحِهِ 
ۖ وَجَعَلَ
لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۚ
قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ [٣٢:٩]
پھراس کے اعضا
درست کیے اور اس میں اپنی روح پھونکی اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنایا
تم بہت تھوڑا شکر کرتے ہو
اسی
طرح اور بہت سی آیات ہیں جہاں روح پھونکنے کا ذکر ہے۔اس لیے حضرت مریم کے حوالے سے
روح پھونکنے پر اعتراض کرنا صرف دل کی کجی ہی ہے۔
تمام
محترم اہل حدیث حضرات کے پاس حدیث کی حجت کو ثابت کرنے کے لیے اور بے شمار دلائل
ہونگے ، آپ حدیث کی حجت کو دوسرے دلائل سے ثابت کریں ، نہ کہ قرآن بمقابلہ حدیث
شروع کرا دیں۔ قرآنی الفاظ کا اور اھادیث کے الفاظ کا کوئی مقابلہ نہیں، قرآن کے
الفاظ اللہ تعالیٰ کے الفاظ ہیں، جبکہ حدیث انسانی الفاظ میں ہم تک پہنچی ہے۔ کسی
ایک قرآنی آیت کے ایک لفظ پر شک کرنے والا، کسی ایک لفظ میں تحریف سمجھنے والا
مسلمان نہیں ہو سکتا ،مگر اس کے برعکس اگر کوئی  کسی ایک حدیث یا چند احادیث کے قول رسول ہونے  پر اعتراض کرے مگر وہ قرآن پر یقین رکھے تو وہ
مسلمان ہو گا۔ ایسے میں کیا قرآن کے الفاظ اور حدیث کے الفاظ کا مقابلہ کراتے ہوئے
یہ کہنا درست ہو گا کہ جو جواب قرآن کے اعتراض کا ہو گا وہی حدیث کے الفاظ کا ہو گا۔
قرآن کے الفاظ پر اعتراض سمجھنا بذات خود ایک گمراہی اور جہالت ہے۔
اللہ
تعالیٰ ہماری تمام جانے انجانے میں کی ہوئی غلطیاں معاف فرمائے اور ہمیں ہدایت دے۔