Categories
متفرق مضامین

میری کرسمس

میری کرسمس
تحریر: محمد امین اکبر
دنیا کا ہر فرد کئی قسم کے تہوار مناتا ہے ۔مذہبی تہوارجو کسی بھی مذہب کے ماننے والے جہاں بھی ہوں مناتے ہیں۔ علاقائی تہوارجو مخصوص علاقوں تک محدود ہوتے ہیں۔اس طرح موسموں کے آنے جانےاور سال  کے بدلنے پر بھی ہر کوئی اپنے اپنے طریقے سے  خوش ہوتا۔کچھ تہواروں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ علاقوں سے ہوتے ہوئے دنیا میں مقبول ہو جاتے ہیں، کچھ عقیدت کی وجہ سے مذہب کا حصہ نہ ہوتے ہوئے بھی مذہب کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ عیسائیوں کے تہوار کرسمس کو عیسائی لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی خوشی میں مناتے ہیں اور مذہبی جوش و جذبے سے مناتے ہیں۔ شروع میں یہ تہوار اتنے جوش و خروش سے نہیں منایا جاتا تھا، مگر جب عیسائیت کے شروع ہونے کے چند سو سال بعد عیسائیت بہت سے ممالک کا سرکاری مذہب بن گیا تو اس تہوار نے بھی سرکاری سرپرستی میں پھلنا پھولنا شروع کر دیا۔اس تہوار پر عیسائی ایک دوسرےکو مبارک باداور تحفے تحائف دیتے ہیںِ، وجہ صاف ظاہر ہے کہ تہوار تو عیسائیوں کا ہی ہے،  مگر تذبذب کی کیفیت وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں پوچھا جاتا ہے کہ کیا کوئی مسلمان بھی کسی عیسائی کو کرسمس کی مبارکباد دے سکتا ہے؟ تو اس کو سختی سے حرام قرار دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ عیسائی حضرات کو کرسمس کی مبارک باد دینا ایک ایسا  مسئلہ ہے جس پر اکثریتی علماء کا اجماع ہے کہ وہ ناجائز ہے ۔  جو لوگ اسے جائز قرار دیتے ہیں ان کے حوالہ جات میں دنیاوی معاشرت  اور اسلامی رواداری کا پہلو شامل ہوتا ہے۔اس حوالے سے قرآن پاک پڑھنے کے بعد میرا موقف یہ ہے کہ عیسائیوں کو اُن کی  خوشی کے مواقع پر،  جیسے شادی، سالگرہ، پیدائش،  میں شریک ہوا جا سکتا، اُن کوتہوار پر مبارکباد دیتے ہوئے میری کرسمس بھی کہا جاسکتا ہے۔ قرآن پاک میں اس حوالے سے دیکھتے ہیں کیا بیان فرمایا گیا ہے۔
چند قرآنی آیات
سورہ روم کے شروع میں ذکر ہے کہ رومیوں (عیسائیوں) کی غیر مسلموں  کے خلاف لڑی جانے والی لڑائی میں رومیوں کی شکست پر  اہل ایمان  کے دل غمگین اور چند سال بعد فتح پر خوش ہو گئے تھے، اس  خوشی اور غمی کی بہت سی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مسلمان عیسائیوں کے اہل کتاب ہونے کی وجہ سے ،کفار کے مقابلے میں، ان کی فتح پر خوش تھے۔اس وقت بھی عیسائیوں کے یہی عقائد تھے جو آج ہیں۔ اس وقت کے تمام عیسائی عقائد قرآن مجید میں تفصیل سے درج ہیں۔اس کے باوجود سورۃ روم کی آیات پڑھ کر لگتا ہے کہ اگر مسلمان اس جنگ کے موقع پر عیسائیوں کی مزید مدد کرنے کے قابل ہوتے تو جنگی مدد بھی ضرور کرتے۔
غُلِبَتِ الرُّومُ [٣٠:٢]
”روم مغلوب ہو گئے“
فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُم مِّن بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ [٣٠:٣]
”نزدیک کے ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے“
فِي بِضْعِ سِنِينَ ۗ لِلَّهِ الْأَمْرُ مِن قَبْلُ وَمِن بَعْدُ ۚ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ [٣٠:٤]
”چند ہی سال میں پہلے اور پچھلے سب کا م الله کے ہاتھ میں ہیں اور اس دن مسلمان خوش ہوں گے“
وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا [٤:٨٦]
”اور جب تمہیں کوئی دعا دے تو تم اس سے بہتر دعا دو یا الٹ کر ویسی ہی کہو بے شک الله ہر چیز کا حساب لینے والا ہے“
سورۃ النساء کی اس آیت میں لفظ بِتَحِيَّةٍ کا  استعمال کیا گیا ہے۔جو مبارکباد کے اور استقبالیہ کلمات ہیں ۔
أُولَٰئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا [٢٥:٧٥]
”یہی لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کے بدلہ میں جنت کے بالا خانے دیے جائیں گے اور ان کا وہاں دعا اور سلام سے استقبال کیا جائے گا “
اس آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ دعا دینے والا یا کلام کرنے والا مسلمان ہو تب ہی جواب دینا ہے۔
قرآن میں سورۃ المائدہ کی آیت 82 میں درج ہے کہ یہود اور ہنود کے مقابلے میں عیسائی مسلمانوں کے دوست ہیں۔ تو یہ کیسی دوستی ہے کہ ایک طرف وہ تہوار منا رہے ہوں اور ہم مبارکباد بھی نہ دے سکیں؟
قرآن کریم کے مطابق یہودی عیسائی صابی جو نیک عمل کرے گا جنت میں جائے گا [٥:٦٩] ۔جنت میں سب ایک دوسرےپر سلامتی بھیجیں گے[١٠:١٠] ۔ جب وہاں سلامتی بھیجی جا سکتی ہے تو یہاں ایک دوسرے کو مبارک باد کیوں نہیں دی جا سکتی؟ باقی یہ سوال کہ کون جنت میں جائے گا کسی کو معلوم نہیںِ اللہ تعالیٰ سے لکھوا کر کوئی نہیں لایا۔[٥:٦٩] میں تاقیامت تک کی بات ہو رہی ہے نہ کہ اُن عیسائیوں کی جو نبی کریم ﷺ سے پہلے گذر چکے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی قرآنی مجید میں بھی مشرک کے لیے جنت حرام ہونے کا لکھا ہے[٥:٧٢]۔ جو چاہے عیسائی ہو یا کسی اور مذہب کا۔
مبارکباد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے یا اللہ کے بیٹے کے لیے؟
وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [٢:١٢٤]
”اور جب ابراھیم کو اس کے رب نے کئی باتوں میں آزمایا تو اس نےانہیں پورا کر دیا فرمایا بے شک میں تمہیں سب لوگوں کا پیشوا بنادوں گا کہا اور میری اولاد میں سے بھی فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا“
اس آیت کے مطابق ہم آل ابراہیم پر دورد بھیجتے ہیں اس کا تعلق آل ابراہیم کے برے لوگوں سے نہیں ہوتا۔ وہ صرف اچھے لوگوں پر جاتا ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم مبارک اللہ کے رسول کی پیدائش  کے لیے دیں اور اللہ اسے بیٹے کے لیے سمجھ کر ہمیں گناہ گار قرار دے ۔
قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ [٣:٦٤]
”کہہ اے اہلِ کتاب! ایک بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے کہ سوائے الله کے اور کسی کی بندگی نہ کریں اور اس کا کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں اور سوائے الله کے کوئی کسی کو رب نہ بنائے پس اگر وہ پھر جائیں تو کہہ دو گواہ رہو کہ ہم تو فرمانبردار ہونے والے ہیں“
اس آیت کے مطابق اگر عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان برابر کی بات دیکھیں تو وہ یہ ہے کہ اس دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ پیدا ہونے پر خوشی ہی منائی جاتی ہے۔
نجاشی نے سورۃ مریم کی پیدائش مسیح سے متعلق آیات سن کر کہا تھا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان لکیر سے زیادہ فرق نہیں۔اس نے مسلمانوں اور عیسائیت کے درمیان برابر کی بات ہی دیکھی تھی جو پیدائش عیسیٰ علیہ السلام تھی نہ کہ اُنکا  نعوذ باللہ خدا کا بیٹا ہونا۔
معاشرت کا تقاضا
اسلام اپنے اندر جتنی رواداری دوسرے مذاہب کے لیے رکھتا ہے اتنی دنیا کا کوئی مذہب نہیں رکھتا۔ مگر ہم مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ یہ رواداری صرف مذہبی عبادات کی اجازت دینے کی حد تک ہے اور بس۔قرآن کریم کے مطابق مسلمان  مرد کو  اہل کتاب عورت سے شادی  کی اجازت ہے(سورۃ المائدہ آیت 5) ، اسی وجہ سے بہت سے مسلمان مرد اہل کتاب عورت سے شادی بھی کرتے ہیں ۔ یاد رہے مسلمان مرد سے شادی شدہ اہل کتاب عورت پر اس کی عبادات کے حوالے سے کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔اب ذرا تصور کریں کتنی مضحکہ خیز صورتحال  ہو گی کہ کسی کی بیوی، جواس کی سب سے بڑی دوست ہوتی ہے،اس کی  شریک حیات،اس کا لباس، اس کا پردہ، اس کی راز دار(سورۃ البقرہ آیت 187) ، وہ اپنا تہوار منا رہی ہے، اپنی عبادت کر رہی ہے، تہوار کی خوشی میں اچھے اچھے کھانے پکا  رہی ہے ،مسلمان مرد پر یہ کھانے کھانا حلال ہے(سورۃ المائدہ آیت 5) مگر بیوی کو اس مذہبی یا رسمی تہوار کی مبارک باد دینا حلال نہیں۔ بہت سے لوگ جوان کے ملک میں رہتے ہیں ، اُن میں کھاتے ہیں، انہی کا سا لباس پہنتے ہیں، مگر ہر سال پھر پاکستانی مولوی سے ایک ہی بات کا فتویٰ طلب کرتے ہیں کہ  کرسمس کی مبارک باد دیں یا نادیں؟
ناجائز ہونے کے بارے میں دلائل
کرسمس کا مطلب اللہ تعالیٰ نے بیٹا جنا۔
ایک اعتراض تو یہ کیا جاتا ہے کہ اگر آپ کسی عیسائی کو کرسمس کی مبارک باد دیں گے تو آپ اس بات پر ایمان لے آئیں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں(نعوذ باللہ)۔
 نہ جانے یہ غلط فہمی کہاں سے آ گئی کہ کرسمس کا مطلب اللہ نے بیٹا جنا(نعوذ باللہ) ہوتا ہے۔ ایسا کسی لغت میں نہیں لکھا ہوا۔مزیدیہ کہ جب صدر اوبامہ کسی مسلمان کو روزوں کی مبارک باد دیتا ہے تو کیا وہ ایمان لے آتا ہے کہ مسلمانوں کے روزے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی برحق حضرت محمد ﷺ پر فرض کیے گئے ۔ نہیں بلکہ وہ صرف اپنی عیسائی دنیا کی رواداری دکھا رہا ہوتا ہے۔کرسمس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے منسوب ایک تہوار ہے بس، کوئی اسے مذہبی عقیدت سےمناتا ہے تو کوئی بھرپور کاروباری جذبے سے اور کچھ چھٹیاں منانے کے لیے۔
اس حوالے سے قاری محمدحنیف ڈارصاحب کی ایک تحریر سے اقتباس:
” کیا ایسا ممکن ھے کہ وہ خدا سمجھتے رھیں اور ھم نبی سمجھ کر خوش ھو لیں،، جی ایسا بالکل ممکن ھے، قرآن حکیم میں ایک سورت ھے الصآفآت اس کی آیت نمبر 125 میں حضرت الیاس اپنی قوم کو کہہ رھے ھیں کہ تم بعل کو پکارتے ھو بچے مانگنے کے لئے اور احسن الخالقین کو بھول جاتے ھو،، یہ بعل نام کا بت تھا جس پر چڑھاوے چڑھائے جاتے تھے اور بیٹے مانگے جاتے تھے،لنگ پوجا ٹائپ کی عبادات کی جاتی تھیں،، الغرض اس بت کی وجہ سے شوھر کو بھی " بعــل ” مجازی خدا یعنی بیٹے دینے والا کہا جانے لگا ! اب یہی بعل کا لفظ حضرت سارا اپنے شوھر ابو الانبیاء حضرت ابراھیم کے لئے استعمال کرتی ھیں،، سورہ ھود کی آیت 72 میں وہ فرماتی ھیں کہ” اءلدُ و انا عجوزٓ و ھٰذا "بــعـــــلی "شیخاً ؟ کیا میں اب جنوں گی جبکہ میرا بعل بوڑھا پھونس ھو گیا ھے ؟ یہاں بعل شوھر کے معنوں میں استعمال ھوا ھے نہ کہ بت کے معنوں میں،، اسی طرح عیسی علیہ السلام کو وہ جو مرضی ھے سمجھیں ھم انہیں اللہ کا رسول سمجھ کر ان کی پیدائش کی مبارک دے سکتے ھیں !“
 نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے کہا تھا کہ ایمان والے لوگوں کو کہیں کہ  ”راعنا“ نہ کہا کریں ”انظرنا“ کہا کریں [٢:١٠٤] ۔ اسی طرح اگر کسی کو لگتا ہے کہ میری کرسمس کا مطلب اللہ نے بیٹا جنا ہے(جو کہ نہیں ہے) تو اسے ہیپی برتھ ڈے ٹو عیسیٰ کہہ کر تصحیح کر دیں۔
آج کے دور میں  کرسمس منانے والوں اور اس کی مبارک باد دینے والوں کی اکثریت   میری کرسمس کہنے سے  حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا جشن ہی مطلب لیتے ہیںَ۔بالفرض لغوی اعتبار سے میری کرسمس کا اگر کچھ دوسرا مطلب  بنتا بھی ہے( جو کہ نہیں بنتا) لیکن  میری کرسمس کا وہی مفہوم معتبر سمجھا جائے گاجو رائج ہوگا۔اردو میں بہت سے الفاظ ایسے ہیں جن کےلغوی معنی کچھ اور ہیں لیکن ہم انہیں دوسرے معنوں میں استعمال کرتے ہیں، جیسے غزل، عورت، شعراور شوربا وغیرہ۔
سالگرہ کی مبارک صرف زندہ شخص کے لیے
سالگرہ پر ایک اعتراض یہ کہ، سالگرہ مبارک صرف زندہ شخص کو کہا جا سکتا ہے۔
اس اعتراض کا مطلب اس بات کا اقرار ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔ سوائے چند جدت پسندوں کے تمام مسلمان ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ تسلیم کرتے ہیں۔
متفقہ اجماع
جہاں تک اس اجماع کی بات ہے کہ کافروں کو ان کے قومی شعائر پر مبارک باد دینا بالاتفاق حرام ہے جیسا کہ ان کی عیدوں اور روزوں پر مبارک باد دینا حرام ہےاور غیرمسلموں کو شادی، بچے کی پیدائش وغیرہ پر مبارک باد دی جا سکتی ہے یا نہیں اس بارے اختلاف ہے۔
ا س بارے میں عرض ہےکہ پچھلی قوموں کے لیے خوشی کے موقعوں کا ذکر قرآن[٥:١١٤] میں بھی موجود ہے۔پچھلی قوموں پر اللہ تعالیٰ نے روزے بھی فرض[٢:١٨٣] کیےتھے۔جب ہم پر اور پچھلی قوموں پر روزے اللہ تعالیٰ نے ہی فرض کیےتو روزوں پر مبارک باد دینا  کیوں حرام ہے؟
ایک طرف ہم یقین رکھتے ہیں کہ بچے تمام دین توحید پر پیدا ہوتے ہیں مگر اس بچے کی پیدائش کی مبارکباد دینے میں اختلاف  کیوں ہے ؟اب بچے کا تو کوئی قصور نہیں کہ وہ غیر مسلم کے گھر پیدا ہوا۔ یہی حال شادی کا ہے، شادی سے معاشرے کی بہت سی اخلاقی برائیاں ختم ہوتی ہے۔ مسلمان مردوں کو غیر مسلم عورتوں(اہل کتاب) سے شادی کی اجازت ہے مگر انہیں شادی کی مبارک باد ینے میں اختلاف  کیوں ہے؟

 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مزید پڑھیں:
Categories
متفرق مضامین

پیدائش عیسیٰ 25 دسمبر؟

 

پیدائش عیسیٰ 25 دسمبر؟
 

 

 فَأَجَاءَهَا الْمَخَاضُ إِلَىٰ جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ يَا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَٰذَا وَكُنتُ نَسْيًا مَّنسِيًّا

 

پھر درد زہ اسے ایک کھجور کے تنے کے نیچے لے آیا، بولی کاش! میں اس سے پہلے ہی مر گئی ہوتی اور لوگوں کی یاد سے بھی بھولی بسری ہو جاتی۔( سورة مريم، آیت 23)

 

وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا

 

اور اس کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، یہ تیرے سامنے ترو تازہ پکی کھجوریں گرا دے گا (سورة مريم، آیت 25)

کچھ دوست ان آیات سے ثابت کرتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ اسلام کی ولادت اس موسم میں ہوئی جب کھجور کے درخت پر کھجوریں پک کر تیار ہو چکی ہوتی ہیں یعنی انتہائی گرمیوں کا موسم ۔ اُن دوستوں کے نزدیک یہ آیات اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ حضرت عیسیٰ سردیوں کی بجائے گرمیوں میں پیدا ہوئے۔
مجھے حضرت  عیسیٰ علیہ السلام کی  25 دسمبر یا سردیوں میں پیدئش پر اصرار نہیں کہ خودعیسائیوں کے ایک پوپ بینڈکٹ 16 نے تاریخ پیدائش مسیح کو چیلنج کر دیا ہے۔پوپ صاحب کا اعتراض  کیلنڈر کی تبدیلی کے حوالے سے ہے، مگر ہم نے اس اعتراض کو دیکھنا ہے جو قرآن آیات کے حوالے سے پیش کیا جاتا ہے۔
سورۃ مریم سے اس پورے واقعے کو دیکھتے ہیں۔
پیدائش مسیح سے پہلے اگر دیکھا جائے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام  کے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام  اور حضرت زکریا علیہ السلام کے بیٹے حضرت یحییٰ علیہ السلام  اس طرح پیدا ہوئے کہ اُن کی مائیں بانجھ (عَاقِرًاور عَقِيمٌ) تھیں (سورۃ 19 آیت 5، 8، سورۃ 51 آیت 29)، بانچھ پن کا علاج تو آج کے جدید دور میں بھی ممکن نہیں، اس وقت ان اصحاب کی پیدائش بھی معجزہ ہی کہی جا سکتی ہے۔ بائبل میں بھی  حضرت اسحاق علیہ السلام  اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کی پیدائش کو معجزے سے ہی تعبیر کیا گیا ہے مگر اُن پیدائشوں پر اس لیے اعتراض نہیں کیا جا گیا کہ اُن میں تمام دنیاوی اسباب، یعنی ماں اور باپ دونوں موجود تھے۔ یہود نے اصل فتنہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت کھڑا کیا، جسے قرآن کریم میں رد کر دیا گیا۔ہمارے تمام مسلمان بھائی(سوائے چند جدت پسندوں کے) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کو خدا کی قدرت کا کرشمہ قرار دیتے ہیں، مگر اسی واقعے میں ایک چھوٹی سی بات جو بات چیت کے انداز سے بھی معجزہ لگتی ہے اسے ماننے سے انکار کر دیتے ہیں ۔یہ بن موسم میں کھجور کا گرنا حضرت مریم علیہ السلام کی بھوک مٹانے کے ساتھ ساتھ اُن کو تسلی دینا تھا کہ جس طرح خدا شروع سے معجزات کرتا آیا ہے اب پھر کرے گا۔ اس پورے واقعے کو دیکھا جائے تو بہت سے معجزات نظر آتے ہیں۔
 اصل واقعہ یوں ہے۔
سورۃ آل عمران
تو پروردگار نے اس کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمایا اور اسے اچھی طرح پرورش کیا اور زکریا کو اس کا متکفل بنایا زکریا جب کبھی عبادت گاہ میں اس کے پاس جاتے تو اس کے پاس کھانا پاتے(یہ کیفیت دیکھ کر ایک دن مریم سے) پوچھنے لگے کہ مریم یہ کھانا تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے وہ بولیں خدا کے ہاں سے (آتا ہے) بیشک خدا جسے چاہتا ہے بے شمار رزق دیتا ہے (37)
(وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب فرشتوں نے (مریم سے کہا) کہ مریم خدا تم کو اپنی طرف سے ایک فیض کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح (اور مشہور) عیسیٰ ابن مریم ہوگا (اور) جو دنیا اور آخرت میں باآبرو اور (خدا کے) خاصوں میں سے ہوگا (45)
اور ماں کی گود میںاور بڑی عمر کا ہو کر (دونوں حالتوں میں) لوگوں سے (یکساں) گفتگو کرے گا اور نیکو کاروں میں ہوگا (46)
مریم نے کہا پروردگار میرے ہاں بچہ کیونکر ہوگا کہ کسی انسان نے مجھے ہاتھ تک تو لگایا نہیں فرمایا کہ خدا اسی طرح جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جب وہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے (47)
اور (عیسیٰ) بنی اسرائیل کی طرف پیغمبر (ہو کر جائیں گے اور کہیں گے) کہ میں تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں وہ یہ کہ تمہارے سامنے مٹی کی مورت بشکل پرند بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ خدا کے حکم سے (سچ مچ) جانور ہو جاتا ہے اور اندھے اور ابرص کو تندرست کر دیتا ہوں اور خدا کے حکم سے مردے میں جان ڈال دیتا ہوں اور جو کچھ تم کھا کر آتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو سب تم کو بتا دیتا ہوں اگر تم صاحب ایمان ہو تو ان باتوں میں تمہارے لیے (قدرت خدا کی) نشانی ہے (49)
سورۃ مریم
اور کتاب (قرآن) میں مریم کا بھی مذکور کرو، جب وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرق کی طرف چلی گئیں (16)
تو انہوں نے ان کی طرف سے پردہ کرلیا۔ (اس وقت) ہم نے ان کی طرف اپنا فرشتہ بھیجا۔ تو ان کے سامنے ٹھیک آدمی (کی شکل) بن گیا (17)
مریم بولیں کہ اگر تم پرہیزگار ہو تو میں تم سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں (18)
انہوں نے کہا کہ میں تو تمہارے پروردگار کا بھیجا ہوا (یعنی فرشتہ) ہوں (اور اس لئے آیا ہوں) کہ تمہیں پاکیزہ لڑکا بخشوں (19)
مریم نے کہا کہ میرے ہاں لڑکا کیونکر ہوگا مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور میں بدکار بھی نہیں ہوں (20)
(فرشتے نے) کہا کہ یونہی (ہوگا) تمہارے پروردگار نے فرمایا کہ یہ مجھے آسان ہے۔ اور (میں اسے اسی طریق پر پیدا کروں گا) تاکہ اس کو لوگوں کے لئے اپنی طرف سے نشانی اور (ذریعہٴ) رحمت اور (مہربانی) بناؤں اور یہ کام مقرر ہوچکا ہے (21)
 تو وہ اس (بچّے) کے ساتھ حاملہ ہوگئیں اور اسے لے کر ایک دور جگہ چلی گئیں (22)
پھر درد زہ ان کو کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔ کہنے لگیں کہ کاش میں اس سے پہلے مرچکتی اور بھولی بسری ہوگئی ہوتی (23)
اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے فرشتے نے ان کو آواز دی کہ غمناک نہ ہو تمہارے پروردگار نے تمہارے نیچے ایکچشمہ جاری کردیا ہے (24)
اور کھجور کے تنےکو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ تم پر تازہ تازہ کھجوریں جھڑ پڑیں گی (25)
تو کھاؤ اور پیو اورآنکھیں ٹھنڈی کرو۔ اگر تم کسی آدمی کو دیکھو تو کہنا کہ میں نے خدا کے لئے روزے کی منت مانی تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہیں کروں گی (26)
پھر وہ اس (بچّے) کو اٹھا کر اپنی قوم کے لوگوں کے پاس لے آئیں۔ وہ کہنے لگے کہ مریم یہ تو تُونے برا کام کیا (27)
اے ہارون کی بہن نہ تو تیرا باپ ہی بداطوار آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدکار تھی (28)
تو مریم نے اس لڑکے کی طرف اشارہ کیا۔ وہ بولے کہ ہم اس سے کہ گود کا بچہ ہے کیونکر بات کریں (29)
بچے نے کہا کہ میں خدا کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے (30)
اور میں جہاں ہوں (اور جس حال میں ہوں) مجھے صاحب برکت کیا ہے اور جب تک زندہ ہوں مجھ کو نماز اور زکوٰة کا ارشاد فرمایا ہے (31)
اور (مجھے) اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا (بنایا ہے) اور سرکش وبدبخت نہیں بنایا (32)
اور جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا مجھ پر سلام (ورحمت) ہے (33)

 

 

ان آیات میں صاف صاف بتا دیا گیا ہے کہ اصل ماجرا کیا تھا۔ کجھور کے معاملے کو دیکھیں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ کجھوروں کا لگنا ایک معجزہ ہے، ورنہ حضرت مریم علیہ السلام جو پہلے سے ہی کجھور کے تنے  کے پاس بیٹھی ہیں ان کو بتایا جا رہا ہے کہ کجھور کے تنے کو ہلاؤ تو کھجوریں گریں گی۔کجھور کے تنے کو ہلانے کا کہنا بھی صرف ایک سبب بنانے کے لیے تھا کہ ہاتھ لگانے سے ہی کھجوریں گریں،  ورنہ اُس حالت میں حضرت مریم علیہ السلام میں اتنی طاقت کہاں تھی کہ تنے کو ہلا سکے۔ حضرت مریم علیہ السلام کے ساتھ اس وقت صرف یہی ایک معجزہ نہیں ہوا تھا، حضرت عیسیٰ علیہ اسلام نے بھی ان کے ساتھ بات کی ہوگی، تبھی تو انہوں نے جاتے ہی بچے کی طرف اشارہ کر دیا۔قرآن کریم صرف خاص خاص باتیں بیان کرتا ہے جزیات نہیں۔ کھجور کے درخت سے بن موسم کھجور گرنا بھی خاص بات تھی کوئی عام نہیں۔

 

 
مزید پڑھیں: میری کرسمس

 

Categories
Answer to Objection on Quran

اللہ تعالیٰ کے پاؤں، طارق جمیل کی دعا۔

اللہ تعالیٰ کے پاؤں
(طارق جمیل کی دُعا)
از: محمد امین اکبر

فیس بک پر ابھی ایک پوسٹ نظر سے گذری جس سے پتہ چلا کہ کچھ علمائے کرام  اور ایک بہت بڑے ”عالم“ نے طارق جمیل صاحب کے تصور خدا کو خلاف قرآن قرار دیا۔
اپنا تصور خدا تو اُنہوں نے بیان نہیں کیا مگر ہائی لائٹ ٹیکسٹ پڑھ کر پتہ چلا کہ طارق جمیل صاحب کی ایک دُعا میں سے الفاظ چن کر اسے اُن کا تصور خدا تسلیم کر لیا گیا۔
میرے نزدیک اس دعا میں طارق جمیل صاحب نے اگراللہ کے پاؤں پکڑنے کی بات کی ہے تو کوئی مضحکہ خیز بات نہیں ہے کہ اس پر پوسٹ بنائی جائے نا ہی کفریہ کلمات ہیں کہ اس پر فتویٰ جاری کیا جائے۔ اگر طارق جمیل صاحب نے غلط کہا ہے تو اس کا رد قرآن سے پیش جائے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی نے نہیں دیکھا نہ دیکھ سکتا ہے۔ مگر اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سی صفات بشریت کی حد تک انسان کو دی ہیں۔طارق جمیل صاحب نے اگر اللہ کے ہاتھ اور پاؤں کی بات کی ہے تو ہمیں دیکھنا چاہیے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے ایسی کوئی بات کی ہے۔ اس کے لیے ہمیں قرآن کریم سےہی رہنمائی ملے گی۔
چند آیات پیش ہیں :
”اے نبیؐ، جو لوگ تم سے بیعت کر رہے تھے وہ دراصل اللہ سے بیعت کر رہے تھے ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا اب جو اس عہد کو توڑے گا اُس کی عہد شکنی کا وبال اس کی اپنی ہی ذات پر ہوگا، اور جو اُس عہد کو وفا کرے گا جو اس نے اللہ سے کیا ہے، اللہ عنقریب اس کو بڑا اجر عطا فرمائے گا“(Al-Fath: 10)  
اس آیت میں تو اللہ تعالیٰ خود اپنا ہاتھ بتا رہا ہے۔ اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے نبی چنا تھا اس لیے ان کی بیعت اللہ کی بیعت کہلائے گی۔اب اگر اس آیت کے تناظر میں، میں یہ دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر آپ کا ہاتھ تھا ، اسی طرح آج امت محمدی(ﷺ) پر بھی اپنا ہاتھ رکھ دے تو کیا خیال ہے کافر ہو جاؤں گا؟
”میرا بھروسہ اللہ پر ہے جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی اس کے ہاتھ میں نہ ہو بے شک میرا رب سیدھی ر اہ پر ہے“
 (Hud: 56)
اس آیت کا مطلب بھی سب کو پتہ ہے اللہ تعالیٰ اپنے ایک نبی کی زبان سے کہلوا رہے ہیں کہ ہر چیز پر اسی کا کنٹرول ہے، جسے ہاتھ میں چوٹی ہونا کہا گیا، دوسرے الفاظ میں اللہ تعالیٰ کےہاتھ میں سب کی لگام ہے۔
”یہودی کہتے ہیں اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں باندھے گئے ان کے ہاتھ، اور لعنت پڑی اِن پر اُس بکواس کی بدولت جو یہ کرتے ہیں اللہ کے ہاتھ تو کشادہ ہیں، جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے ۔۔“
  (Al-Maaida: 64)
اس آیت میں چند انسانوں نے اپنی زبان میں کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں(نعوذ باللہ)۔ جس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہو کر فرما رہے ہیں کہ نہیں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کشادہ ہیں۔ انسانوں کی بات کا انسانوں کی بات میں ہی جواب دیا گیا۔اس آیت سے پتہ چلا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کو بندھا ہوا کہنے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوا ہے ۔ تو اس آیت سے میں یہ دعا کروں کہ یا اللہ آپ کے ہاتھ ہی دنیا میں سب سے کشادہ ہیں۔ اپنے کشادہ ہاتھوں سے مجھے خیر عطا فرما۔ کیا اس دعا سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو گا؟
”اور کیا ہو جاتا اگر کوئی ایسا قرآن اتار دیا جاتا جس کے زور سے پہاڑ چلنے لگتے، یا زمین شق ہو جاتی، یا مُردے قبروں سے نکل کر بولنے لگتے؟ (اس طرح کی نشانیاں دکھا دینا کچھ مشکل نہیں ہے) بلکہ سارا اختیار ہی اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔۔۔“
 (Ar-Ra’d: 31)  
یہاں بھی اللہ کے ہاتھ سے مراد اللہ کا کنٹرول ہی ہے۔
”وہ تو جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا کام بس یہ ہے کہ اسے حکم دے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے“ (۳۶: ۸۲)
کن فیکون کے حوالے سے ااور بھی آیات ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ  کن فیکون۔ کیا اللہ تعالیٰ کی زبان ہے جو اللہ تعالیٰ کو کہنا پڑتا ہے؟
اصل میں تو یہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوتا ہے اوروہ چیز ہو جاتی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو سمجھانے کے لیے انسانوں کی زبان میں بات کی ہے کہ سب سے کم مشقت زبان سے ”ہو جا“ کہنے سے ہوتی ہے  کہ انسان سمجھ لے۔ درحقیت تو اللہ تعالیٰ کا ارادہ کرنا ہی کسی چیز کے ہو جانے کے لیے  کافی ہے۔
”وہ سب کچھ سننےاور جاننے والا ہے“ (۲۶: ۲۲۰)
بہت سی  آیات سمیع کی ہیں یعنی سننے والا، اگر اہم دعا کریں کہ یا اللہ سُن لے تو کیا کفر کا فتویٰ لگا دیا جائے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کو سننے والا سمجھا جبکہ سنتا تو انسان ہے؟
”تم سارے انسانوں کو پیدا کرنا اور پھر دوبارہ جِلا اُٹھانا تو (اُس کے لیے) بس ایسا ہے جیسے ایک متنفس کو (پیدا کرنا اور جِلا اٹھانا) حقیقت یہ ہے کہ اللہ سب کچھ سُننے اور دیکھنے والا ہے“  (۳۱: ۲۸)
اب بصیر کو بھی دیکھ لیں۔ اگر ہم اللہ تعالیٰ کو ابصیر کہیں تو کیا وہ نعوذ باللہ انسانوں کی سطح پر آ جائیں گے؟
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے ساتھ اسی طرح بات کی ہے جیسے انسان کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ڈائنو سار کا ذکر نہیں کیا کہ کفار کہیں پہلے ڈائنوسار دکھاؤ تو سہی کہ وہ ہوتے کیسے ہیں۔ اسی طرح اُن خطوں، علاقوں اور اُن کے انبیاء کا ذکر نہ کیا جن کو قریش جانتے نہ تھے کہ قریش کہتے پہلے وہ خطہ دکھاؤ تو سہی کہ ہے کہاں؟۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ پاؤں کا ذکر کیا تاکہ انسان اچھی طرح بات سمجھ لے۔ اب اگر طارق جمیل اللہ کے پاؤں پکڑنے کی بات کر رہا ہے تو اتنا عام بچے کو بھی پتہ ہے وہ ویسے ہی تمثیلی بات ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے کی۔پاؤں پڑنا یا پاؤں پکڑنا انتہائی عاجزی کے مفہوم کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے پاؤں پکڑنے کی بات اپنی زبان میں کرتے  ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی کوتاہیوں کا اقرار کر رہے ہیں اور اسے آئندہ نہ دہرانے کا عہد کر رہے ہیں۔اسے اگر حقیقی معنی میں لیا جائے تویہ تو  بچہ بھی جانتا ہےکہ اللہ تعالیٰ کے وجود کا احاطہ کوئی نہیں کر سکتا چہ جائیکہ ایک انسان پاؤں پکڑنے بیٹھ جائے۔

٭٭٭٭٭٭ 

Categories
قرآنی احکامات

اسلامی حجاب(پردہ)

 

Islamic Hijab
By: Muhammad Ameen Akbar
اسلامی حجاب(پردہ)
تحریر: محمد امین اکبر

 

 

Categories
حدیث قرآن

قرآن اور حدیث کی سچائی کے پیمانے

قرآن اور حدیث کی سچائی کے پیمانے
تحریر: محمد امین اکبر

 

قرآن : اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ پر 23 سال کے عرصے میں تھوڑی تھوڑی نازل کر کے مکمل کی۔
احادیث:نبی کریم ﷺ سے منسوب اقوال جو ہم تک مختلف راویوں کے ذریعے سے پہنچے۔
جس وقت قرآن نازل ہو رہا تھا تو اس وقت کے کفار بھی اس کے من جانب اللہ ہونے پر اعتراضات کرتے تھے، اور آج 1400 سال بعد کے مستشرقین اور اسلام دشمن عناصر کو بھی قرآن کریم کے من جانب اللہ ہونے پر اعتراض ہے۔اللہ تعالیٰ نے کفار اور مستشرقین کے ان اعتراضات کا جواب قرآن میں شامل کر دیا ہے۔ اعتراضات کے ان جوابات کو شامل کرنے کی ایک بڑی وجہ صرف یہ تھی کہ اگر ایک ہزار سال کے بعد بھی کوئی غیر مسلم قرآن کریم کی حقانیت پر سوال اٹھائے تو اس کے اعتراضات کا جواب بھی اس میں موجود ہو ۔قرآن کے منجانب اللہ اور حق ہونے کی دلیل کے طور پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا [٤:٨٢]
کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے “
اس آیت کے مطابق اگر قرآنی الہامی کی بجائے انسانی تصنیف ہوتی تو اس میں بیان کیے گئے حقائق میں تضاد ہوتے۔
قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَىٰ أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَٰذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا [١٧:٨٨]
”کہہ دیجیئے کہ اگر تمام انسان اور کل جنات مل کر اس قرآن کے مثل نا چاہیں تو ان سب سے اس کے مثل لانا ناممکن ہے گو وه (آپس میں) ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں “
اس آیت میں تمام جنوں اور انسانوں کو چیلنج دیا گیا ہے کہ  اگر قرآن الہامی نہیں بلکہ انسانی کتاب ہے تو ایک قرآن تمام جن اور انسان مل کر بھی سامنے لے آئیں۔
أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ [١١:١٣]
”کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو اسی نے گھڑا ہے۔ جواب دیجئے کہ پھر تم بھی اسی کی مثل دس سورتیں گھڑی ہوئی لے آؤ اور اللہ کے سوا جسے چاہو اپنے ساتھ بلا بھی لو اگر تم سچے ہو “
اس آیت میں اعتراض کرنے والوں کے لیے مزید نرمی کر دی گئی اور پورے قرآن کی جگہ صرف دس سورتیں لانے کا کہا گیا۔
أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّثْلِهِ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ [١٠:٣٨]
”کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ آپ نے اس کو گھڑ لیا ہے؟ آپ کہہ دیجئے کہ تو پھر تم اس کے مثل ایک ہی سورت لاؤ اور جن جن غیراللہ کو بلا سکو، بلالو اگر تم سچے ہو “
اس آیت میں معترضین کو مزید رعایت دیتے ہوئے ایک سورت کے بنانے کا چیلنج دیا گیا ہے۔
بعض غیر مسلم لوگوں نے بزعم خود قرآن کو تضاد کی کتاب ظاہر کرنے کے لیے تراجم کے  الفاظ سے اختلاف ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے، مگر ایسے تمام اعتراض دوسرے تراجم پڑھ کر ختم ہو جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ  آج کل ولوگوں نے قرآن کی ”مثل“ سورت بنانے کے لیے طرح طرح کے مضحکہ خیز فقرات بنائے ہیں، جیسے کیا تم نے ہاتھی کو دیکھا، اس کی ایک سونڈ ہوتی ہے اور ایک دم ہوتی ہے وغیرہ۔سوچنے کی بات ہے کہ  اس طرح کے مضحکہ خیز فقرات قرآن کریم کا بدل ہوتے تونبی کریم ﷺ کے دور کے لوگ، جو شعر گوئی اور ادب میں اپنی مثال آپ تھے، اس سے بہتر فقرات بنا لیتے  مگر چیلنج کے باوجود کوئی ایسا نہ کرسکا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو پیشن گوئیاں کی وہ فوراً بھی پوری ہوئی اور آج تک پوری ہو رہی ہیں۔ جیسے میدان بدر میں فتح، روم کی فارس پر فتح اور فتح مکہ۔ اس کے علاوہ سائنس  جن معلومات کو 1400 سال کے تجربات کے بعد بیان کر رہی ہے وہ بھی قرآن کریم میں درج ہیں۔ اس کے برعکس مضحکہ خیز کلمات کو قرآن کے مثل قرار دینا بچگانہ پن کی انتہا ہے۔ اس مضمون میں اصل موضوع قرآن کے بزعم خود بیان کیے جانے والے تضادات اور بیان کی جانے والی مثل کا احاطہ کرنا نہیں ہے، بلکہ میں تو قرآن اور احادیث کی سچائی کے حوالے سے اپنائے جانے والے ایک جیسے معیارات کا جائزہ لینے کی کوشش کروں گا۔
احادیث کے حوالے سے دیکھا جائے تو نبی کریم ﷺ کے بعد پہلی صدی ہجری میں ہی احادیث کی تدوین کا کام ہو گیا تھا۔ مشہور صحابی ابوہریرہ کے شاگرد نے بھی ایک صحیفہ لکھا جس میں ابو ہریرہ سے نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کی جانے والی غالبا 134 احادیث پیش کی گئی۔ان کے علاوہ اور بہت سے لوگ احادیث لکھتے رہے یا زبانی اگلی نسل کو منتقل  کرتے رہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ احادیث کی تعداد بھی بڑھتی رہی۔بعض لوگوں نے ذاتی مفاد کے لیے احادیث خود سے بھی گھڑ کر نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کی۔250 ہجری کے لگ بھگ جب امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ  نے احادیث کو جمع کرنا شروع کیا تو یہ تعداد لاکھوں میں تھی۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے ایک سخت معیار کے مطابق  ان لاکھوں احادیث میں سے  چند ہزار احادیث اپنی کتاب صحیح بخاری میں پیش کی۔ اسی طرح تمام محدثین کرام نے اپنے اپنے معیارات بنائے اور جو احادیث ان کے مطابق پائی  اسے قبول کر لیا اور باقی کو رد کر لیا۔ اس وقت امت مسلمہ میں احادیث کی درجنوں کتابیں موجود ہیں۔ کچھ کے نزدیک احادیث کی 6 کتابیں معتبر ہیں اور باقی کتابوں کی احادیث ناقابل اعتبار، جب کہ کچھ کے نزدیک احادیث کی 4 کتابیں معتبر ہیں اور باقی نا قابل اعتبار۔تمام محدثین کرام نے بڑی نیک نیتی کے ساتھ جمع احادیث کا کام شروع کیا۔ اس کا مقصد امت تک صحیح احادیث پہنچانا تھا۔
جیسا کہ میں نے کہا کہ تمام محدثین کے احادیث کو پرکھنے کے معیارات الگ الگ تھے جس میں ایک معیار قابل اعتبار سند بھی تھا۔ یعنی احادیث بیان کرنے والا بتائے کہ اس نے یہ حدیث کس سے سنی اوراس نے آگے کس سے سنی اور یہ سلسلہ نبی کریم ﷺ یا صحابہ کرام تک جا پہنچتا ہو۔  محدثین کی کتابیں ان کے بعد زبانی اور لکھی ہوئی صورت میں آ ج کے دور میں ہم تک پہنچی ہیں۔ اگر محدثین اس وقت احادیث جمع نہ کرتے تو غالبا آج کروڑوں احادیث لوگوں کی زبانوں پر ہوتی جس میں سے اصل اور نقل کی پہچان کرنا اُس وقت کی نسبت آج کافی مشکل ہوتا۔ اللہ تعالیٰ محدثین کرام پر اپنی رحمتیں نازل کرے۔
دین اسلام میں احکامات کا اولین ماخذ قرآن کریم ہی ہے، اس کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ اس کا الہامی ہونا ہے۔ اس کے علاوہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کے الفاظ جوں کے توں درج ہیں۔ اگر آج میں کسی غیر مسلم کوقرآن پر غوروفکر کرنے کے لیے کہوں تو اس کے جو سوالات ہونگے غالباً اس طرح کے ہونگے کہ کیا قرآن الہامی کتاب ہے؟ اس کا جواب قرآن آیات میں ہی مذکور ہے کہ جناب اگر یہ الہامی نہ ہوتا تو اس میں تضاد ہوتا۔ دوسرا سوال یہ ہو سکتا ہے کہ کیا یہ قرآن جن لوگوں نے بھی ہم تک پہنچایا ہے کیا اسی حالت میں پہنچایا ہے جس میں نازل ہوا تھا۔ اس کا جواب بھی بالکل واضح ہے، قرآن ہم تک لکھا ہوا بھی پہنچا ہے اور زبانی حفاظ کرام کے ذریعے ۔ کسی بھی طرح یہ ممکن ہی نہیں کہ اس میں کوئی ہیر پھیر کر سکے۔ لیکن پھر بھی ایک لمحے کےلیے یہ فرض کر لیا جائے کہ اس میں انسانوں نے کمی بیشی کی ہے تو اس کا جواب بھی یہی ہے کہ اگر کسی انسان نے قرآن میں کچھ اضافہ کیا ہو گا تو اس میں بھی اختلاف آ گیا ہوگا ۔اگر اس میں اختلاف نہیں تو یہ کلام الٰہی ہے۔
بہت سے علماء کرام احادیث کو بھی وحی مانتے ہیں، مگر اس کا نام انہوں نے وحی غیر متلو یعنی جو وحی قرآن کی طرح تلاوت نہ کی جائے، اسی تناظر میں بہت سے دوست احادیث کی حقانیت کو ثابت کے لیے احادیث کا مقابلہ قرآن کریم سے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی  احادیث کی سند کے بارے میں سوال اٹھا دے تو پہلا جواب یہی ہوتا ہے کہ قرآن کریم بھی تو انہی لوگوں کی زبانی ہم تک پہنچا ہے۔ جناب والا قرآن اللہ تعالیٰ کی الہامی کتاب ہے۔ اپنے اوپر کیے جانے والوں اعتراضات کا جواب قرآن کریم خود دیتا ہے۔اگر احادیث کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے آپ وہی الہامی معیار اپنانا چاہتے ہیں تو  آئیے اسی معیار کے مطابق احادیث کو دیکھتے ہیں۔قرآن کریم کے وحی اللہ یعنی الہامی ہونے کا   پہلا معیار یہ ہے کہ  قرآن کریم کی آیتوں میں اختلاف نہیں۔ کیا احادیث میں اختلاف ہے؟ بالکل ہے۔ کچھ لوگ احادیث کی روشنی میں ہی فروعی مسائل میں ضد کر کے مختلف فرقے بنا بیٹھے ہیں جو مختلف طریقوں سے نماز  پڑھتے ہیں۔ روزہ کھولنے کے اوقات مختلف ہیں اور اسی طرح سینکڑؤں فروعی مسائل ہیں۔ ان فروعی اختلافات کے بارے میں ایک جواب تو یہ ہو سکتا ہے کہ جناب نبی کریم ﷺ نے ہر طریقے کے مطابق نماز پڑھی یا روزہ مختلف اوقات میں افطار کیا۔ تو ٹھیک ہے جناب اس بات کو  بالکل درست  مان لیتے ہیں، تو پھر اب امت کیوں ایک دوسرے کے طریقوں سے نماز نہیں پڑھتی؟ کیوں فروعی مسائل کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنا لیا جاتا ہے؟
اعتقادی مسائل کو دیکھیں تو احادیث سے ہی ثابت کیا جاتا ہے کہ وفات پائے ہوئے لوگوں تک ایصال ثواب ایسے پہنچتا ہے جیسے آج کل ہم کسی کے نمبر پر ایزی لوڈ بھیج دیتے ہیں، جبکہ دوسرے لوگوں کے مطابق وفات پانے والے اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہے، کسی کا کچھ پڑھنا اُن کو کچھ فائدہ نہ دے گا۔  نبی کریم ﷺ نور تھے یا بشر، اس حوالے سے بھی مختلف احادیث کی بنیاد پر ہی فرقے  یا فرقوں میں فرقے بن چکے ہیں۔
اب دوسرے معیار کو دیکھتے ہیں جو قرآن کو الہامی بیان کرتا ہے کہ اگر یہ قرآن انسانی کلام ہے تو تم بھی ایسی ایک سورت لکھ لاؤ۔ اس معیار پر اگر احادیث کو دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ لاکھوں میں تعداد میں احادیث ایسی تھیں جو لوگوں نے خود سے بنائی تھیں، اس طرح کی تمام احادیث کو ،جن کے وضعی ہونے پر شک تھا انہیں، محدثین نے رد کر دیا۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق مشہور ہے کہ اُنہوں نے لاکھوں ایسی احادیث کو مسترد کیا۔  احادیث کی جو درجہ بندی کی گی  اس میں ایک درجہ وضعی یا ضعیف روایات کا رکھا گیا۔ اس میں وہ تمام احادیث بیان کی گئی جو  محدثین کے نزدیک لوگوں نے خود سے  گھڑی تھیں مگر اُن کو بھی کتابوں میں درج کر دیا گیا۔محدثین کرام نے اپنی انسانی سمجھ اور بصیرت کے مطابق احادیث کو پرکھا اور اپنی کتابوں میں درج کیا اور اپنی انسانی سمجھ کے مطابق ہی اُن کو مختلف درجہ بندیوں میں تقسیم کیا۔ محدثین انبیاء نہ تھے، اس لیے بعض لوگوں کو یہ احتمال رہتا ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں جو احادیث رد کی گئیں ہو سکتا ہے اُن میں کوئی صحیح بھی ہو،  یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جو احادیث لی گئی ہیں اُن میں کوئی غلط حدیث شامل نہ ہو گئی ہو۔
ایسے حالات میں ہم کس طرح احادیث کو قرآن کے بیان کیے گئے معیار کے مطابق بیان کر سکتے ہیں؟
ہمیں مختلف محدثین کی بیان کی گی احادیث کو ثابت کرنے کے لیے وہی معیار اپنانا چاہیے جو انہوں نے احادیث کو جمع کرنے کا بنایا تھا نہ کہ وہ معیار جو قرآن کریم کی حقانیت کا ہے۔ اگر آج مجھے قرآن کریم کا سلسلہ روایت معلوم نہ ہو تو اس سے قرآن کریم کی حقانیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کہ قرآن کے الہامی ہونے کا معیار خود قرآن میں مذکور ہے، مگر حدیث کے سلسلہ روایت میں  ایک راوی نہ ملے تو علماء کے نزدیک وہ حدیث مشکوک ہو جاتی ہے۔
 اگر کوئی محدثین کے بیان کیے گئے معیار سے متفق نہیں تو وہ اپنا معیار بتائے کہ احادیث کے صحیح ہونے کا کیا معیار ہونا چاہیے؟ اس پر اگر کسی کا جواب ہو کہ وہ صرف ایسی احادیث کو درست تسلیم کرے گا جو قران کے مطابق ہونگی تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔جہاں محدثین کرام نے اپنے اپنے معیار اپنائے دوسروں کو بھی اپنا لینے دیجیے۔ ہاں اگر کوئی کہے کہ حدیث کی فلاں کتاب سے فلاں حدیث نکال دی جائے تو یہ علمی بددیانتی ہوگی۔ کسی کتاب سے مصنف کی مرضی کے بغیر  ایک فقرہ نکال دینے کے بعد وہ اس مصنف کی طرف تو منسوب نہیں کی جا سکتی۔اگر کوئی صحیح بخاری سے 50 احادیث نکال کر شائع کرتا ہے تو پھر صحیح بخاری کو امام بخاری ؒ کی طرف منسوب نہیں کی جا سکتی ، اسے احادیث نکالنے والے کی ترتیب و تدوین کہا جائے گا۔
اکثر ایسی صورتحال بھی پیش آتی ہے کہ اگرکوئی احادیث میں بیان کی گئی ایسی بات کا انکار کردیتا ہے جو اسے قرآنی آیات کے مطابق نہیں لگتی تو اس پر بغیر سوال کیے یہ کہہ کر  کافر  ہونے کا فتویٰ داغ دیا جاتا ہے کہ یہ  ہمارے علماء کا متفقہ فیصلہ ہے کہ جو اس بات کا مخالف ہو کافر ہے۔ اللہ کے بندو، کسی کے کافر مسلمان ہونے کا فیصلہ قرآن کی روشنی میں ہونا چاہیے یا علماء کرام کی رائے شماری سے ؟ اگر کسی کے نزدیک قرآن سے ایک بات ثابت ہو جاتی ہے اور حدیث قرآنی آیت سے اختلاف کر رہی ہے تو اُس شخص سے کوئی سوال کیے بغیر صرف علماء کے کہنے پر کفر کا فتویٰ لگا دینا ،کیا  یہود کی طرح اپنے علماء کو اپنا معبود بنانا نہیں؟ آپ لوگ احادیث کی حقانیت کو ضرور ثابت کریں۔ پوری دنیا میں کوئی مسلمان ایسا نہیں ہو سکتا جو کہے کہ جو نبی کریم ﷺ نے کہا ہے وہ میں نہیں مانتا۔ لیکن اگر کوئی کہے کہ یہ بات قرآن کے مخالف ہے، نبی کریم ﷺ ایسی بات کہہ نہیں سکتے تھے تو اس پر کس خوشی میں منکر حدیث کا فتویَ ؟ اس مسئلے میں احسن حدیث یعنی قرآنی آیت، جو نبی کریم ﷺ کے الفاظ ہی ہیں، کو تو وہ مان رہا ہے۔ ظاہری طور پر تو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ کفر کا فتویٰ احادیث کا انکار کرنے پر نہیں، اپنے علماء کی بات سے اختلاف کرنے پر دیا گیا ہے۔
قرآن بالکل حق ہے۔ وہ تمام احادیث جو قرآنی احکامات کے مطابق ہوں وہ بھی درست ہیں، مگر قرآن کا اپنا معیار ہے اور حدیث کااپنا  معیار ہے۔ ایک الہامی  کلام ہے ، دوسرا انسانی۔ اس لیے انسانی کلام کو ثابت کرنے کے لیے الہامی کلام سے الزامی سوالات نہیں کرنے چاہیں، کیونکہ الہامی کلام کو ثابت کرنے کا معیار اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان کر دیا ہے، جس پر اگر انسانی کلام کو پرکھا جائے گا تو وہ کبھی بھی معیار پر پورا نہ اترے گا۔  
میں نے بہت سے دوستوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی  ، احادیث کے بارے میں مباحث کرتے ہوئے قرآن پر الزامی سوالات نہ کیے جائیں، مگر اُن دوستوںکا جواب ہوتا ہے کہ
” قرآن پر اعتراض کرنے کے دو مقاصد ہوتے ہیں۔ ایک تعمیری اور دوسرا تخریبی ۔
تعمیری کا مقصد جستجو یا کسی مخالف سے کوئی بات اگلوانا، اور تخریبی کا مقصد صرف اور صرف اعتراض در اعتراض القرآن الکریم میں عیب نکالنا ( نعوذ باللہ من ذلک )۔ اور الحمد للہ ثم الحمد للہ ہماری جانب سے اگر اعتراض کیا بھی گیا ہےتو ہمیشہ سے اول الذکر تعمیری اعتراض ہی کیا گیا ہے۔ “
مجھے اپنے محترم دوستوں کے تعمیری جذبے  پر کوئی شک نہیں ۔ میرا خیال ہے کہ آپ کی تعمیری کوششوں کو تخریبی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سب سے پہلے تو عرض یہ ہے کہ سب مسلمانوں کو ہر طرح کی تعمیری اور اصلاحی کوششیں شروع کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ کہیں ہم انجانے میں ایسا  فساد تو نہیں پھیلا رہے جس کا ہم کو پتہ بھی نہ ہو(سورۃ البقرہ آیت 11، 12)۔ اب ہمارے وہ   دوست جو  قرآن پر الزامی سوالات سے تعمیری کوششیں کر رہے ہیں اس کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ وہ جانتے بوجھتے یا انجانے میں مستشرقین کے اعتراضات کو ایسے لوگوں تک پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں جو پہلے ہی یہاں  غیرمسلموں اور دہریوں کے نرغے میں ہوتے ہیں۔ اور دہریے اُن دوستوں کے بیان کیے ہوئے اعتراضات کومسلمان بچوں کو بہکانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔  ہمارے محترم دوست احادیث پر کیے گئے  اعتراضات کے جواب اس طرح دیتے ہیں کہ ،جو جواب قرآن پر عائد اس اعتراض کا ہے وہی جواب احادیث پر عائد اعتراضات کا ہو گا۔ اب یہ جواب کیا ہو گا؟ یہ محترم دوستوں نے کبھی بتانے کی کوشش ہی نہیں کی ۔ارے بھائی آپ لوگ اعتراض بتا رہے ہو تو جواب بھی تو بتاؤ۔ اسی فرقہ پرست رویے سے تنگ لوگ   قرآن پرایسے اعتراضات کے بارے میں جان لیتے ہیں جو اُن کو پہلے نہیں معلوم تھے۔اس سے لوگ احادیث پر اپنا ایمان کیا مضبوط کریں گے الٹا  قرآن سے بھی برگشتہ ہو جاتے ہیں۔ اس تمام صورت حال  کے بعد  ہمارے محترم دوست کہتے ہیں کہ کسی  بھی حدیث کاانکار کرنے کی آخری منزل دہریت ہے۔  اسے دہریت تک پہنچانے میں مسلمان بھائیوں کا بھی کچھ نہ کچھ کردار ہے ، جو کوئی ماننے کو تیار نہیں۔ایسا کرنے میں اُن لوگوں کا بھی حصہ ہے جو اعتراضات تو کھل کر چھاپتے ہیں مگر جواب کو ہتھیار سمجھ کر چھپا کر رکھتے ہیں کہ بحث کے دوران سب سے آخر میں دیں گے۔
ہمارے محترم دوستوں کو چاہیے کہ اپنی تعمیری کوششیں بالکل جاری رکھیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ضرور اس کا اجر دے گا۔ مگر ان کوششوں میں وہ جانے انجانے، مستشرقین کے بیان کیے ہوئے اعتراضات کاپی پیسٹ کر کے،  دہریت کے ہاتھ مضبوط نہ کریں۔ہدایت دینا نہ دینا اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے مگر ہمیں اپنی کوششیں اس طرح جاری رکھنی چاہیے کہ کسی کو اسلام کے کسی گوشے پر اعتراض کرنے کا موقع نہ مل سکے۔ اگر کہیں الزامی سوال پیش کرنا پڑے تو فوراً ہی اس کا بہترین جواب بھی پیش کیا جائے۔اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔
 (تحریر: 8 اگست 2014، ترمیم: 9 اپریل 2017)
Categories
Answer to Objection on Quran قرآن

قرآن کریم میں عریانیت؟

قرآن کریم میں عریانیت؟
تحریر:محمد امین اکبر
اس وقت بہت افسوس ہوتا ہے جب کوئی حدیث کی حرمت کو ثابت کرنے کے لیے قرآن کریم  پر ہی اعتراضات کرنا شروع کر دیتا ہے۔اس چیز سے بچنا چاہیے۔ایسا کرتے ہوئے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ جو جواب قرآن کے اِن اعتراضات کا ہے وہی جواب حدیث کے اعتراضات کا ہو گا۔ ایک بات کو اپنے پلے باندھ لینا چاہیے کہ قرآن کریم کے الفاظ اللہ تعالیٰ کے منتخب کیے ہوئے الفاظ ہیں، جبکہ احادیث کے الفاظ انسانی الفاظ ہیں، احادیث میں بعض جگہ براہ راست جو بات نبی کریم ﷺ نے کی وہی ہم تک پہنچائی گئی اور بعض جگہ نبی کریم ﷺ کے الفاظ کا مفہوم یا الفاظ کو اپنے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ ایسے میں قرآن و احادیث کےالفاظ کا مقابلہ کرتے ہوئے قرآن پر اعتراض اللہ تعالیٰ پر اعتراض بن جاتا ہے۔یہ کہنا ہی غلط بات ہے کہ جو جواب قرآن کے اس اعتراض کا ہے وہی حدیث کے اعتراض کا  ہے خود میں قرآن پر اعتراض کرنے والی بات ہے۔یاد رکھیں قرآن میں کسی طرح کا بھی کوئی اعتراض نہیں، ایسا کہنے اور سمجھنے والے منکر قرآن اور غیر مسلم ہونگے۔
ایک صاحب جن کے مسلمان ہونے پر اور صاحب ایمان ہونے پر مجھے کوئی شک نہیں، ماشاء اللہ سچے پکے مسلمان اور عاشق رسول ﷺ ہیں مگر جذبات آ کر ایسی بات کہہ گئے جو میرے ذاتی خیال میں کسی کو سمجھانے کے لیے بھی نہیں کرنی چاہیے۔اُن کا اصل اعتراض اس طرح تھا
احادیث میں عریانی باتیں ھیں تو ایسی بے شمار باتیں میں آپ کو قرآن سے بھی ثابت کر سکتا ھوں ۔۔۔۔!
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بے حیائی کی باتوں سے بچنے کی تلقین کی ہے تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم کسی بھی آیت سے کوئی  بھی مفہوم لے کر قرآن کو بے حیائی کی باتوں والا ثابت کریں۔ اس طرح تو آپ قرآن کو تضاد بیانی والی کتاب ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس ضمن میں جن آیات سے یہ ثابت کیا گیا ہے وہ اس طرح سے ہیں۔
چند نمونے پیش کرتا ھوں امید کرتا ھوں افاقہ ھوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وربائیبکم التی دخلتم بھن (النساء 23 ) لفظی ترجمہ :- تمھاری وہ ربیبائیں جن کے اندر تم نے اپنا الہ تناسل داخل کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
الزامی سوال :- کیا اللہ اتنی گندی زبان استعمال کرسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔
اس سوال کا جواب تو پہلے ہی دیا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی زبان کو گندا کہنے  یا سوچنے کا مطلب ہی اللہ تعالیٰ پر اعتراض اور  قرآن میں تضاد بیان کرنے کی کوشش ہو گا۔اللہ تعالیٰ کی ذات پاک بہت باحیا ذات ہے، وہ قرآن کریم میں اس طرح کی بات کے لیے صرف اشارہ دے دیتے ہیں۔جیسے کہ اسی سورۃ النساء کی آیت 23 میں دَخَلْتُم کہہ کر اشارہ کر دیا گیا ہے۔ اب اس آیت کی تفسیر لکھتے ہوئے تو آلہ تناسل کے دخول کا ذکر کر سکتے ہیں مگر ترجمہ لکھے ہوئے، جیسا کہ ایک دوست نے لکھا ہے، ایسے ویسے الفاظ لکھیں گے تو وہ تحریف میں شمار ہونگے کیونکہ یہ کسی بھی الفاظ کا ترجمہ نہیں بلکہ کسی انسان کے ذاتی خیالات ہیں جن کو بریکٹ میں لکھا جا سکتا ہے تاکہ پتہ چلے کہ یہ ذاتی خیالات ہیں۔ دَخَلْتُم کا لفظ قرآن کریم میں دخول کے معنوں میں آیا ہے اپنے سیاق و سباق سے ہر کسی پر اس کا مطلب واضح ہو جاتا ہے  اس لیے اس کےلکھنے سے اللہ تعالیٰ کے قرآن کے لکھے ہوئے کو بے حیائی کہنا درست نہیں۔دوسری آیات جہاں دَخَلْتُم آیا ہے اس طرح سے ہیں۔
 قَالَ رَجُلَانِ مِنَ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمَا ادْخُلُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوهُفَإِنَّكُمْ غَالِبُونَ وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿المائدة: ٢٣﴾
مگر دو انسان جنہیں خدا کا خوف تھا اور ان پر خدا نے فضل و کرم کیا تھا انہوں نے کہا کہ ان کے دروازے سے داخل ہوجاؤ –اگر تم دروازے میں داخل ہوگئے تو یقینا غالب آجاؤ گے اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر تم صاحبانِ ایمان ہو (۵: ۲۳)
لَّيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَن تَأْكُلُوا مِن بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ أَوْ بُيُوتِ خَالَاتِكُمْ أَوْ مَا مَلَكْتُم مَّفَاتِحَهُ أَوْ صَدِيقِكُمْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا فَإِذَا دَخَلْتُمبُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِندِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ﴿النور: ٦١﴾
نابینا کے لئے کوئی حرج نہیں ہے اور لنگڑے آدمی کے لئے بھی کوئی حرج نہیں ہے اور مریض کے لئے بھی کوئی عیب نہیں ہے اور خود تمہارے لئے بھی کوئی گناہ نہیں ہے کہ اپنے گھروں سے یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماں اور نانی دادی کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا جن گھروں کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھانا کھالو …. اور تمہارے لئے اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے کہ سب مل کر کھاؤ یا متفرق طریقہ سے کھاؤ بس جب گھروں میں داخل ہو تو کم از کم اپنے ہی اوپر سلام کرلو کہ یہ پروردگار کی طرف سے نہایت ہی مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے اور پروردگار اسی طرح اپنی آیتوں کو واضح طریقہ سے بیان کرتا ہے کہ شاید تم عقل سے کام لے سکو (۲۴: ۶۱)
اسی طرح سورہ النسا کی آیت میں بھی سیاق و سباق سے دخول کا  جو مطلب نکلتا ہے وہ سب کو معلوم ہے اس کے لیے ترجمے میں کسی تحریف کی ضرورت نہیں۔
اور بہت سی ایسی آیات ہیں جہاں اللہ تعالیٰ نے اشاروں میں بات کی ہے مگر اُن پر بھی  کچھ غیر مسلموں کی طرف سے بے حیائی پھیلانے کا الزام لگا دیا جاتا ہے
وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ [٢:٢٢٢]
اور آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں کہہ دو وہ نجاست ہے پس حیض میں عورتوں سے علیحدٰہ رہو اور ان کے پاس نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک ہو لیں پھر جب وہ پاک ہو جائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نےتمہیں حکم دیا ہے بے شک الله توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اوربہت پاک رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے
مندرجہ بالا آیت پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ جناب قرآن میں بے حیائی کا لفظ حیص موجود ہے۔ آیت کو دیکھیں تو معلوم ہو جاتا ہے کہ اگر یہ بے حیائی کا لفظ ہے بھی تو بھی اس کے بارے میں لوگوں نے حکم پوچھا تھا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ نجاست ہے، نجاست ہونے میں تو پہلے بھی کسی کو شک نہیں تھا اصل حکم تو یہ ہے کہ اس دوران عورتوں کے نزدیک نہ جاؤ۔ اس نزدیک جانے میں اشارے میں جو بات کر دی گئی ہے وہ سب کو معلوم ہے کہ  کیا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اس دوران خود کے اور اپنی عورتوں کے درمیان 10 فٹ کا فاصلہ رکھو۔ اس آیت کی تفسیر بیان کرنے ہوئے کوئی بھی شخص کچھ بھی بیان کرے اگر ترجمہ کے نام پر اسی طرح ترجمہ کرے گا جیسے اوپر اعتراض میں بیان کیا گیا ہے تو وہ تحریف کا مرتکب ہو گا۔
ایک اور آیت جس میں اللہ تعالیٰ نے اشارے سے بات کرتے ہوئے سب سمجھا دیا ہے یہ ہے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا ۖ فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا [٣٣:٤٩]
اے ایمان والو جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں طلاق دے دو اس سے پہلے کہ تم انہیں چھوو تو تمہارے لیے ان پر کوئی عدت نہیں ہے کہ تم ان کی گنتی پوری کرنے لگو سو انہیں کچھ فائدہ دو اور انہیں اچھی طرح سے رخصت کر دو
اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ طلاق میں عدت کے لیے ضروری ہے کہ مرد نے عورت کو چھوا ہو۔ اس چھونے سے مراد مباشرت ہے ، نہ کہ بخار دیکھنے کے لیے ہاتھ سے ماتھا چھو لیا تب بھی طلاق کے بعد عدت ضروری ہو گی۔
اوپر موجودآیات میں اور اسی طرح بہت سی آیات میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کتنے حیاوالے ہیں۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی سمجھانے کےلیے ہی سہی اللہ تعالیٰ کے الفاظ کو بے حیائی سے تشبیہ دے تو وہ آخرت میں اپنا انجام سوچ لے۔
اب ایک دوسری آیت جس کا ترجمہ لکھتے ہوئے دانستہ یا نادانستہ تحریف کی کوشش کی گئی ہے اس طرح بیان کی ہے۔
و مریم ابنت عمران التی احصنت فرجھا فنفخنا فیہ من روحنا (التحریم 62)
لفظی ترجمہ :-اور یاد کرو مریم بنت عمران کو جس نے اپنی شرمگاہ کو بچاکر رکھا پس ہم نے اس میں پھونکا اپنی روح کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الزامی سوال : کیا اللہ کو مریم بنت عمران کی شرمگاہ سے اتنی دلچسپی تھی کہ اس کا ذکر اپنی کتاب میں کردیا ۔۔۔۔۔؟؟؟ نعوذ باللہ من ذلک احادیث تو عریانیت کی تعلیم دیتی ہیں اسلئے ان پر لعنت برسائی جاتی ہے اب قران کا بھی کچھ علاج کرو میرے پرویزیو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیاق وسباق میں دیکھیں تو اللہ تعالیٰ بتا رہا ہے کہ مریم علیہ السلام نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی تو اللہ تعالیٰ نے اس میں اپنی روح پھونگ دی۔اب یہ بات کہ اللہ تعالیٰ کو مریم کی شرم گاہ سے دلچسپی تھی اس لیے ذکر ہے تو  یہ تو سیدھا سیدھا اللہ تعالیٰ اور قرآن کریم پر اعتراض کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک عضو بنایا ہے اب اس کی حفاظت کے لیے مریم علیہ السلام کی مثال دے کر قرآن کریم میں دو بار  ﴿الأنبياء: ٩١﴾ اور  ﴿التحريم: ١٢﴾ میں کر دیا تو  اس میں کسی  طرح کی بھی  بازاری انداز کی  دلچسپی کو درمیان میں لانے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا مریم علیہ السلام کی تعریف میں وہ آیات نظر نہیں آتی جن میں اُن کو جہان کے لوگوں سے افضل قرار دیا، ان کو صدیقہ اور پاک باز کہا گیا۔ اُن آیات کی رو سے آپ پھر یہ الزام لگا دیں گے کہ اللہ تعالیٰ کو (نعوذ باللہ) شرم گاہ تو شرم گاہ پوری مریم سے ہی دلچسپی پیدا ہو گئی؟ ایک اعتراض اس طرح بھی کہ اللہ تعالیٰ نے فرج میں روح کو پھونکا (نعوذ باللہ)۔ قرآن کریم میں اور بہت سی آیات ایسی ہیں جہاں روح پھونکنے کا ذکر ہے۔حضرت آدم علیہ السلام میں روح پھونکنے کے حوالے سے ذکر ہے کہ
فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ [١٥:٢٩]
پھر جب میں اسے ٹھیک بنالوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدہ میں گر پڑنا
یہاں حضرت آدم علیہ السلام میں روح پھونکنے کا ذکر ہے نہ کہ کسی خاص عضو میں۔
ثُمَّ سَوَّاهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِن رُّوحِهِ ۖ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۚقَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ [٣٢:٩]
پھراس کے اعضا درست کیے اور اس میں اپنی روح پھونکی اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنایا تم بہت تھوڑا شکر کرتے ہو
اسی طرح اور بہت سی آیات ہیں جہاں روح پھونکنے کا ذکر ہے۔اس لیے حضرت مریم کے حوالے سے روح پھونکنے پر اعتراض کرنا صرف دل کی کجی ہی ہے۔
تمام محترم اہل حدیث حضرات کے پاس حدیث کی حجت کو ثابت کرنے کے لیے اور بے شمار دلائل ہونگے ، آپ حدیث کی حجت کو دوسرے دلائل سے ثابت کریں ، نہ کہ قرآن بمقابلہ حدیث شروع کرا دیں۔ قرآنی الفاظ کا اور اھادیث کے الفاظ کا کوئی مقابلہ نہیں، قرآن کے الفاظ اللہ تعالیٰ کے الفاظ ہیں، جبکہ حدیث انسانی الفاظ میں ہم تک پہنچی ہے۔ کسی ایک قرآنی آیت کے ایک لفظ پر شک کرنے والا، کسی ایک لفظ میں تحریف سمجھنے والا مسلمان نہیں ہو سکتا ،مگر اس کے برعکس اگر کوئی  کسی ایک حدیث یا چند احادیث کے قول رسول ہونے  پر اعتراض کرے مگر وہ قرآن پر یقین رکھے تو وہ مسلمان ہو گا۔ ایسے میں کیا قرآن کے الفاظ اور حدیث کے الفاظ کا مقابلہ کراتے ہوئے یہ کہنا درست ہو گا کہ جو جواب قرآن کے اعتراض کا ہو گا وہی حدیث کے الفاظ کا ہو گا۔ قرآن کے الفاظ پر اعتراض سمجھنا بذات خود ایک گمراہی اور جہالت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہماری تمام جانے انجانے میں کی ہوئی غلطیاں معاف فرمائے اور ہمیں ہدایت دے۔
Categories
غیر زمرہ بند

ورقہ بن نوفل

ورقہ بن نوفل

WARQA BIN NOFEL
Riwayat aur Waqiat ka Jaiza

BY: Muhammad Ameen Akbar

PDF File Link
READ  ONLINE / DOWNLOAD
Alternative Link on Archive
READ  ONLINE / DOWNLOAD
Categories
قرآن

ترجمہ و تفسیر سورۃ 65 الطلاق آیت 4 از محمد امین اکبر

وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ ۚ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا [٦٥:٤]

ترجمہ:اور تمہاری عورتوں میں جو حیض سے مایوس ہوچکی ہیں اگر ان کے یائسہ ہونے میں شک ہو تو ان کا عدہ تین مہینے ہے اور اسی طرح وہ عورتیں جن کے یہاں حیض نہیں آتا ہے اور حاملہ عورتوں کا عدہ وضع حمل تک ہے اور جو خدا سے ڈرتا ہے خدا اس کے امر میں آسانی پیدا کردیتا ہے (ترجمہ:از سید ذیشان حیدر جوادی)

ترجمہ:اور تمہاری (مطلقہ) عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں اگر ان کے بارے میں تمہیں کوئی شک ہو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور یہی حکم ان عورتوں کا ہے جنہیں (باوجود حیض کے سن و سال میں ہو نے کے کسی وجہ سے) حیض نہ آتا ہو اور حاملہ عورتوں کی میعاد وضعِ حمل ہے اور جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے تو اللہ اس کے معاملہ میں آسانی پیدا کر دیتا ہے۔ (ترجمہ:آیت اللہ محمد حسین نجفی)

میرے خیال میں اس آیت کا ترجمہ و مفہوم اس طرح ہے:

ترجمہ ومفہوم:اور تمہاری عورتوں میں سے جن عورتوں  کو حیض کی امید نہیں رہی ہے اگر تم (مردوں کو اُن عورتوں کے حیض سے مایوسی کے بیان پر) شبہ ہو تو ان(عورتوں) کی عدت تین مہینے ہیں اور ان (عورتوں)کی بھی جن کوحیض نہیں آتا(اور اس نہ آنے پر سب کو یقین ہے، عورتوں کا اپنے بارے میں کہنا، کہ حیض نہیں آتا، ہی کافی ہے۔ مردوں کے شبے کی کوئی اہمیت نہیں، اُن کی عدت کی مدت حیض کے حساب سے نہیں مہینوں کے حساب سے ہوگی) اور حمل والیوں کی عدت ان کے بچہ جننے تک ہے اور جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ اس کے کام آسان کر دیتا ہے  (محمد امین اکبر)۔

ان تراجم اور مفہوم سے ساری بات قارئین کی  سمجھ میں آ گئی ہو گی کہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں کیا فرما رہے ہیں۔ مزید بات کرنے سے پہلے ہم چند طبی حقائق دیکھ لیتے ہیں۔

عورت کا نظام تولیدکچھ اس طرح کا ہوتا ہے کہ ہر مہینے عورت کی بیضہ دانی میں انڈا تیار ہوتا ہے۔ وہاں پر اگر اس انڈا کا مرد کے سپرم سے ملاپ ہو جائے تو ٹھیک ورنہ انڈا ماہواری کے خون کے ساتھ خارج ہو جاتا ہے۔ماہواری کا خون بچہ کی ابتدائی نشوونما کے لیے ہوتا ہے ، یا یوں کہہ لیں کہ اس کی ابتدائی خوراک ہوتا ہے۔ 45 سے 50 سا ل کی عمر میں عورت کے انڈا بنانے کی صلاحیت میں نقص پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہے یا یہ صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے۔ اسی نقص کی وجہ سے  ماہواری یا حیض کا نظام شروع میں کم اور بعد کے سالوں میں زیادہ متاثر ہوتے ہوئے بتدریج ختم ہو جاتا ہے۔ماہواری کے نظام کے اختتام کے لیے کوئی طے شدہ عمر نہیں ہے۔مختلف ہارمونز میں تبدیلی کی وجہ سے یہ عمر کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔

ماہوار ی کے نظام کی  ابتدا کے حوالے سے دیکھا جائے تومختلف ممالک کی مختلف آب و ہوا ، خاندانی اثرات یعنی جینز اور خوراک وغیرہ کی وجہ سے ماہواری کےنظام کی ابتدا کی عمر میں فرق ہوتا ہے۔عام حالات میں یہ عمر گیارہ یا بارہ سال ہوتی ہے مگر کچھ لڑکیوں میں یہ  عمر نو یا دس سال بھی ہو سکتی ہے، یعنی کوئی طے شدہ عمر یا  قانون نہیں ہے کہ اس عمر میں ماہواری شروع ہو۔گرم ممالک میں یہ عمر کم ہوتی ہے اور سرد ممالک میں زیادہ۔

عدت یا تو طلاق یا خلع کی صورت میں فرض ہوتی ہے یا پھر خاوند کے وفات پانے کی صورت میں ۔اگر حیض آتا ہو اور طلاق ہو جائے تو عدت کی مدت تین حیض ہوتی ہے(2:228) یعنی یہ مدت 64 دن سے لے کر 96 دن تک ہو سکتی ہے۔اگرکوئی عورت بیوہ ہو جائے، اسے چاہے حیض آتا ہو یا نہ آتا ہو، اس کی عدت کی مدت چار مہینے اور دس دن ہے(2:234)۔

اس سورۃ الطلاق کی آیت چار میں طلاق کے بعد کی صورت حال کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ پہلے  تو ایسی عورتوں کا ذکر ہے جن کی عمر 45 سے 65 یا کچھ اور ہو اور اُن کو حیض نہ آتا ہو، کسی بیماری کی صورت میں یا عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے۔ اگر وہ طلاق کے بعد یہ بیان دیں کہ اُن کو حیض نہیں آتا تو ان کی عدت کی مدت تین ماہ ہے۔ تین حیض کی مدت نہیں۔یہ جو شبہ یا شک کی بات کی گئی ہے، یہ عدت کی مدت میں شک و شبہ نہیں بلکہ حیض کے آنے یا نہ آنے پر ہے۔ یعنی مرد کو عورت پر اعتبار نہیں، وہ عورت کے بیان کو جھوٹا سمجھ رہا ہو وغیرہ۔اگر یہاں عدت کی مدت کے بارے میں شک کا اظہار ہوتا تو آیت کے اگلے حصے کا لفظی ترجمہ ہی یہ ہے کہ جن عورتوں کو حیض نہیں آتا۔ صاف معلوم ہو رہا ہے کہ پہلے حصے میں حیض کے بارے میں شک کی بات ہو رہی ہے نہ کہ عدت کی مدت کے بارے میں ۔آیت کے اگلے حصے میں  جو ذکر ہے وہ اُن عورتوں کا ہے جن کے بارے میں سب کو یقین ہے کہ  اُن کو حیض نہیں آتا، یہ یقین عمر کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ہو یا سب کو پتہ ہو کہ اس عورت کو کوئی ایسی بیماری ہے جس میں حیض نہیں آتا تو اُن عورتوں کی عدت کی مدت کا حساب حیض سے نہیں بلکہ مہینوں کے حساب سے ہوگا جو تین ماہ ہی ہے ، اورطلاق یافتہ حاملہ کی عدت کی مدت ایک دن سے لیکر نو ماہ تک ہے۔ بیوہ حاملہ کی عدت کی مدت چار ماہ دس دن ہی ہے (2:234)۔

آیت کے آخری حصے میں جو ذکر ہے کہ ”اور جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ اس کے کام آسان کر دیتا ہے “ اس کا مطلب ہے کہ اللہ سے ڈرتے ہوئے حمل، حیض کے بارے میں درست بیان دینا۔ اللہ سے ڈرنے والوں کے ہر کام اللہ تعالیٰ آسان کر دیتے ہیں۔

اس آیت سے یہ پتا چلتا ہے کہ عورت کا اپنے بارے میں یہ کہہ دینا کہ اسے حیض نہیں آتا کافی ہے، مرد کے شبہے کی اس حوالے سے کوئی اہمیت نہیں۔ اس کے بعد مدت عام مہینوں کے حساب سے ہوگی۔

بہت سے لوگ اس آیت سے کم عمر میں شادی اور خلوت کے جواز کو ثابت کرتے ہیں۔جن عورتوں کو حیض نہیں آتا کا ترجمہ ”حیض شروع نہیں ہوا“ کرتے ہیں، اصل لفظی ترجمہ ہے جن کو حیض نہیں آتا۔ یعنی پہلے حصے میں شک کی بات تھی اور یہاں یقین کی صورت میں حکم ہے۔اس آیت کا کم عمری کی شادی سے دور دور کا بھی تعلق نہیں ہے، بس حیض کے بارے میں شبہ، یقین اور حاملہ مطلقہ کی عدت کا بیان ہے۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ عدت کی مدت کا تعین صرف حیض سے ہی نہیں ہو سکتا بلکہ حیض نہ آنے کی صورت میں ہوسکتا ہے اور اس صورت میں یہ مدت تین ماہ ہوگی۔ یہ آیت عورتوں یعنی نِّسَا کے بارے میں ہے۔ عربی میں نِّسَا کا لفظ عورتوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، کم عمر لڑکیوں کے لیے نہیں ۔ کم عمر لڑکیوں کوعربی میں ”جاریہ“ کہتے ہیں۔ (جیسا کہ بخاری کی کتاب التفسیر میں ہے سورہ القمر کی تفسیر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت درج ہے، جس میں وہ کہتی ہیں کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی، تب وہ جاریہ (چھوٹی بچی) تھیں۔)

قرآن کریم کی دوسری محکم آیات سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ کم عمر ی میں کم عقل میں شادی نہیں ہو سکتی۔ شادی کے لیے عاقل ہونا ضروری ہے۔ اس عاقل کو بھی آزمانے کا حکم ہے(4:6)۔نکاح کا معاہدہ ایک عام معاہدہ نہیں  ، قرآن کریم نے اسے بہت مضبوط معاہدے یعنی مِّيثَاقًا غَلِيظًا کا نام دیا ہے۔ ایک عام معاہدہ بھی دو عقل مند انسانوں کے درمیان ہوتا ہے تو نکاح جیسا مضبوط معاہدہ کیسے کم عمری میں کیا جا سکتا ہے۔یعنی نکاح کےلیے جسمانی بلوغت کے ساتھ ساتھ ذہنی بلوغت بھی ضروری ہے۔ کم عمری میں کوئی لڑکی جسمانی طور پر بالغ ہو جائے  تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ذہنی طور پر اتنی بالغ ہو گئی ہے کہ  نکاح جیسا مضبوط معاہدہ کر سکے۔ لڑکے کی طرح اس کی عقل بھی دیکھنی چاہیے۔