کیا روزے کا اصل حکم سنت سے ثابت ہے؟

روزے کے حوالے سے بعض سکالرز کا موقف ہے کہ اس کا حکم اصل میں سنت سے ثابت ہے۔اس کی تشریح کرتے ہوئے اُن کا کہنا ہے کہ روزے کا حکم پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امت کو دیا، جس کے بعد  قران کریم میں آیات نازل ہوئیں، جن سے ان فرائض میں کچھ چیزیں کم کی یا کچھ میں اضافہ کیا گیا۔

میرے نزدیک یہ بات درست ہے کہ دین اسلام کے اکثر احکامات یا دینی فرائض ایسے ہیں جنہیں قران کریم نے پہلی بار جاری نہیں کیا۔ حقیقت میں تو یہ  نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بھی پہلی بار نازل نہیں ہوئے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ نے پچھلی امتوں کے احکامات کو ہی امت محمدی صلی  اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جاری رکھا۔ نماز، روزہ، حج وغیرہ ایسے ہی  دینی فرائض ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جن احکام میں تبدیلی چاہی ان کے بارے میں آیات نازل فرما دی جو سب قران کریم کی صورت میں موجود ہیں۔ روزے کا ذکر بائبل   کی درجنوں آیات ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے   روزے اور بہت سے دینی فرائض کو امت میں ویسے ہی رائج کیا، جیسے وہ پچھلی امتوں میں تھے۔ روزہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے روزے کےاحکامات میں جو تبدیلیاں چاہی ان کے بارے میں آیات نازل کر دیں تاہم دین اسلام میں بہت سے احکامات اب بھی ایسے ہیں جو  پچھلی امتوں سے ہی دین اسلام میں آئےا ور آج بھی اسی طرح جاری و ساری ہیں۔ان احکامات کی چند مثالیں  عقیقہ، ختنہ اور حق شفہ وغیرہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان احکامات میں کوئی تبدیلی نہیں کی، اس وجہ سے قران کریم میں اس حوالے سے کوئی آیات بھی نازل نہیں ہوئے۔ یہ چونکہ دین اسلام کا ہی حصہ ہیں اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے اپنی زندگی میں ان پر عمل بھی کیا اور اس بارے میں روایات بھی مل جاتی ہیں ۔ مسلمانوں کا ان احکامات کے بارے میں بھی یہی خیال ہے کہ  یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کی سنت سے ثابت ہے تاہم یہ احکامات بائبل سے بھی ثابت ہیں چونکہ قران میں ان کوختم نہیں کیا گیا یا ان میں تبدیلی نہیں کی گئی ، اس وجہ سے یہ ویسے ہی رائج ہیں۔