قرآن اور حدیث کی سچائی کے پیمانے

قرآن اور حدیث کی سچائی کے پیمانے
تحریر: محمد امین اکبر

 

قرآن : اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ پر 23 سال کے عرصے میں تھوڑی تھوڑی نازل کر کے مکمل کی۔
احادیث:نبی کریم ﷺ سے منسوب اقوال جو ہم تک مختلف راویوں کے ذریعے سے پہنچے۔
جس وقت قرآن نازل ہو رہا تھا تو اس وقت کے کفار بھی اس کے من جانب اللہ ہونے پر اعتراضات کرتے تھے، اور آج 1400 سال بعد کے مستشرقین اور اسلام دشمن عناصر کو بھی قرآن کریم کے من جانب اللہ ہونے پر اعتراض ہے۔اللہ تعالیٰ نے کفار اور مستشرقین کے ان اعتراضات کا جواب قرآن میں شامل کر دیا ہے۔ اعتراضات کے ان جوابات کو شامل کرنے کی ایک بڑی وجہ صرف یہ تھی کہ اگر ایک ہزار سال کے بعد بھی کوئی غیر مسلم قرآن کریم کی حقانیت پر سوال اٹھائے تو اس کے اعتراضات کا جواب بھی اس میں موجود ہو ۔قرآن کے منجانب اللہ اور حق ہونے کی دلیل کے طور پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا [٤:٨٢]
کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے “
اس آیت کے مطابق اگر قرآنی الہامی کی بجائے انسانی تصنیف ہوتی تو اس میں بیان کیے گئے حقائق میں تضاد ہوتے۔
قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَىٰ أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَٰذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا [١٧:٨٨]
”کہہ دیجیئے کہ اگر تمام انسان اور کل جنات مل کر اس قرآن کے مثل نا چاہیں تو ان سب سے اس کے مثل لانا ناممکن ہے گو وه (آپس میں) ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں “
اس آیت میں تمام جنوں اور انسانوں کو چیلنج دیا گیا ہے کہ  اگر قرآن الہامی نہیں بلکہ انسانی کتاب ہے تو ایک قرآن تمام جن اور انسان مل کر بھی سامنے لے آئیں۔
أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ [١١:١٣]
”کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو اسی نے گھڑا ہے۔ جواب دیجئے کہ پھر تم بھی اسی کی مثل دس سورتیں گھڑی ہوئی لے آؤ اور اللہ کے سوا جسے چاہو اپنے ساتھ بلا بھی لو اگر تم سچے ہو “
اس آیت میں اعتراض کرنے والوں کے لیے مزید نرمی کر دی گئی اور پورے قرآن کی جگہ صرف دس سورتیں لانے کا کہا گیا۔
أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّثْلِهِ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ [١٠:٣٨]
”کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ آپ نے اس کو گھڑ لیا ہے؟ آپ کہہ دیجئے کہ تو پھر تم اس کے مثل ایک ہی سورت لاؤ اور جن جن غیراللہ کو بلا سکو، بلالو اگر تم سچے ہو “
اس آیت میں معترضین کو مزید رعایت دیتے ہوئے ایک سورت کے بنانے کا چیلنج دیا گیا ہے۔
بعض غیر مسلم لوگوں نے بزعم خود قرآن کو تضاد کی کتاب ظاہر کرنے کے لیے تراجم کے  الفاظ سے اختلاف ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے، مگر ایسے تمام اعتراض دوسرے تراجم پڑھ کر ختم ہو جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ  آج کل ولوگوں نے قرآن کی ”مثل“ سورت بنانے کے لیے طرح طرح کے مضحکہ خیز فقرات بنائے ہیں، جیسے کیا تم نے ہاتھی کو دیکھا، اس کی ایک سونڈ ہوتی ہے اور ایک دم ہوتی ہے وغیرہ۔سوچنے کی بات ہے کہ  اس طرح کے مضحکہ خیز فقرات قرآن کریم کا بدل ہوتے تونبی کریم ﷺ کے دور کے لوگ، جو شعر گوئی اور ادب میں اپنی مثال آپ تھے، اس سے بہتر فقرات بنا لیتے  مگر چیلنج کے باوجود کوئی ایسا نہ کرسکا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو پیشن گوئیاں کی وہ فوراً بھی پوری ہوئی اور آج تک پوری ہو رہی ہیں۔ جیسے میدان بدر میں فتح، روم کی فارس پر فتح اور فتح مکہ۔ اس کے علاوہ سائنس  جن معلومات کو 1400 سال کے تجربات کے بعد بیان کر رہی ہے وہ بھی قرآن کریم میں درج ہیں۔ اس کے برعکس مضحکہ خیز کلمات کو قرآن کے مثل قرار دینا بچگانہ پن کی انتہا ہے۔ اس مضمون میں اصل موضوع قرآن کے بزعم خود بیان کیے جانے والے تضادات اور بیان کی جانے والی مثل کا احاطہ کرنا نہیں ہے، بلکہ میں تو قرآن اور احادیث کی سچائی کے حوالے سے اپنائے جانے والے ایک جیسے معیارات کا جائزہ لینے کی کوشش کروں گا۔
احادیث کے حوالے سے دیکھا جائے تو نبی کریم ﷺ کے بعد پہلی صدی ہجری میں ہی احادیث کی تدوین کا کام ہو گیا تھا۔ مشہور صحابی ابوہریرہ کے شاگرد نے بھی ایک صحیفہ لکھا جس میں ابو ہریرہ سے نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کی جانے والی غالبا 134 احادیث پیش کی گئی۔ان کے علاوہ اور بہت سے لوگ احادیث لکھتے رہے یا زبانی اگلی نسل کو منتقل  کرتے رہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ احادیث کی تعداد بھی بڑھتی رہی۔بعض لوگوں نے ذاتی مفاد کے لیے احادیث خود سے بھی گھڑ کر نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کی۔250 ہجری کے لگ بھگ جب امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ  نے احادیث کو جمع کرنا شروع کیا تو یہ تعداد لاکھوں میں تھی۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے ایک سخت معیار کے مطابق  ان لاکھوں احادیث میں سے  چند ہزار احادیث اپنی کتاب صحیح بخاری میں پیش کی۔ اسی طرح تمام محدثین کرام نے اپنے اپنے معیارات بنائے اور جو احادیث ان کے مطابق پائی  اسے قبول کر لیا اور باقی کو رد کر لیا۔ اس وقت امت مسلمہ میں احادیث کی درجنوں کتابیں موجود ہیں۔ کچھ کے نزدیک احادیث کی 6 کتابیں معتبر ہیں اور باقی کتابوں کی احادیث ناقابل اعتبار، جب کہ کچھ کے نزدیک احادیث کی 4 کتابیں معتبر ہیں اور باقی نا قابل اعتبار۔تمام محدثین کرام نے بڑی نیک نیتی کے ساتھ جمع احادیث کا کام شروع کیا۔ اس کا مقصد امت تک صحیح احادیث پہنچانا تھا۔
جیسا کہ میں نے کہا کہ تمام محدثین کے احادیث کو پرکھنے کے معیارات الگ الگ تھے جس میں ایک معیار قابل اعتبار سند بھی تھا۔ یعنی احادیث بیان کرنے والا بتائے کہ اس نے یہ حدیث کس سے سنی اوراس نے آگے کس سے سنی اور یہ سلسلہ نبی کریم ﷺ یا صحابہ کرام تک جا پہنچتا ہو۔  محدثین کی کتابیں ان کے بعد زبانی اور لکھی ہوئی صورت میں آ ج کے دور میں ہم تک پہنچی ہیں۔ اگر محدثین اس وقت احادیث جمع نہ کرتے تو غالبا آج کروڑوں احادیث لوگوں کی زبانوں پر ہوتی جس میں سے اصل اور نقل کی پہچان کرنا اُس وقت کی نسبت آج کافی مشکل ہوتا۔ اللہ تعالیٰ محدثین کرام پر اپنی رحمتیں نازل کرے۔
دین اسلام میں احکامات کا اولین ماخذ قرآن کریم ہی ہے، اس کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ اس کا الہامی ہونا ہے۔ اس کے علاوہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کے الفاظ جوں کے توں درج ہیں۔ اگر آج میں کسی غیر مسلم کوقرآن پر غوروفکر کرنے کے لیے کہوں تو اس کے جو سوالات ہونگے غالباً اس طرح کے ہونگے کہ کیا قرآن الہامی کتاب ہے؟ اس کا جواب قرآن آیات میں ہی مذکور ہے کہ جناب اگر یہ الہامی نہ ہوتا تو اس میں تضاد ہوتا۔ دوسرا سوال یہ ہو سکتا ہے کہ کیا یہ قرآن جن لوگوں نے بھی ہم تک پہنچایا ہے کیا اسی حالت میں پہنچایا ہے جس میں نازل ہوا تھا۔ اس کا جواب بھی بالکل واضح ہے، قرآن ہم تک لکھا ہوا بھی پہنچا ہے اور زبانی حفاظ کرام کے ذریعے ۔ کسی بھی طرح یہ ممکن ہی نہیں کہ اس میں کوئی ہیر پھیر کر سکے۔ لیکن پھر بھی ایک لمحے کےلیے یہ فرض کر لیا جائے کہ اس میں انسانوں نے کمی بیشی کی ہے تو اس کا جواب بھی یہی ہے کہ اگر کسی انسان نے قرآن میں کچھ اضافہ کیا ہو گا تو اس میں بھی اختلاف آ گیا ہوگا ۔اگر اس میں اختلاف نہیں تو یہ کلام الٰہی ہے۔
بہت سے علماء کرام احادیث کو بھی وحی مانتے ہیں، مگر اس کا نام انہوں نے وحی غیر متلو یعنی جو وحی قرآن کی طرح تلاوت نہ کی جائے، اسی تناظر میں بہت سے دوست احادیث کی حقانیت کو ثابت کے لیے احادیث کا مقابلہ قرآن کریم سے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی  احادیث کی سند کے بارے میں سوال اٹھا دے تو پہلا جواب یہی ہوتا ہے کہ قرآن کریم بھی تو انہی لوگوں کی زبانی ہم تک پہنچا ہے۔ جناب والا قرآن اللہ تعالیٰ کی الہامی کتاب ہے۔ اپنے اوپر کیے جانے والوں اعتراضات کا جواب قرآن کریم خود دیتا ہے۔اگر احادیث کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے آپ وہی الہامی معیار اپنانا چاہتے ہیں تو  آئیے اسی معیار کے مطابق احادیث کو دیکھتے ہیں۔قرآن کریم کے وحی اللہ یعنی الہامی ہونے کا   پہلا معیار یہ ہے کہ  قرآن کریم کی آیتوں میں اختلاف نہیں۔ کیا احادیث میں اختلاف ہے؟ بالکل ہے۔ کچھ لوگ احادیث کی روشنی میں ہی فروعی مسائل میں ضد کر کے مختلف فرقے بنا بیٹھے ہیں جو مختلف طریقوں سے نماز  پڑھتے ہیں۔ روزہ کھولنے کے اوقات مختلف ہیں اور اسی طرح سینکڑؤں فروعی مسائل ہیں۔ ان فروعی اختلافات کے بارے میں ایک جواب تو یہ ہو سکتا ہے کہ جناب نبی کریم ﷺ نے ہر طریقے کے مطابق نماز پڑھی یا روزہ مختلف اوقات میں افطار کیا۔ تو ٹھیک ہے جناب اس بات کو  بالکل درست  مان لیتے ہیں، تو پھر اب امت کیوں ایک دوسرے کے طریقوں سے نماز نہیں پڑھتی؟ کیوں فروعی مسائل کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنا لیا جاتا ہے؟
اعتقادی مسائل کو دیکھیں تو احادیث سے ہی ثابت کیا جاتا ہے کہ وفات پائے ہوئے لوگوں تک ایصال ثواب ایسے پہنچتا ہے جیسے آج کل ہم کسی کے نمبر پر ایزی لوڈ بھیج دیتے ہیں، جبکہ دوسرے لوگوں کے مطابق وفات پانے والے اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہے، کسی کا کچھ پڑھنا اُن کو کچھ فائدہ نہ دے گا۔  نبی کریم ﷺ نور تھے یا بشر، اس حوالے سے بھی مختلف احادیث کی بنیاد پر ہی فرقے  یا فرقوں میں فرقے بن چکے ہیں۔
اب دوسرے معیار کو دیکھتے ہیں جو قرآن کو الہامی بیان کرتا ہے کہ اگر یہ قرآن انسانی کلام ہے تو تم بھی ایسی ایک سورت لکھ لاؤ۔ اس معیار پر اگر احادیث کو دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ لاکھوں میں تعداد میں احادیث ایسی تھیں جو لوگوں نے خود سے بنائی تھیں، اس طرح کی تمام احادیث کو ،جن کے وضعی ہونے پر شک تھا انہیں، محدثین نے رد کر دیا۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق مشہور ہے کہ اُنہوں نے لاکھوں ایسی احادیث کو مسترد کیا۔  احادیث کی جو درجہ بندی کی گی  اس میں ایک درجہ وضعی یا ضعیف روایات کا رکھا گیا۔ اس میں وہ تمام احادیث بیان کی گئی جو  محدثین کے نزدیک لوگوں نے خود سے  گھڑی تھیں مگر اُن کو بھی کتابوں میں درج کر دیا گیا۔محدثین کرام نے اپنی انسانی سمجھ اور بصیرت کے مطابق احادیث کو پرکھا اور اپنی کتابوں میں درج کیا اور اپنی انسانی سمجھ کے مطابق ہی اُن کو مختلف درجہ بندیوں میں تقسیم کیا۔ محدثین انبیاء نہ تھے، اس لیے بعض لوگوں کو یہ احتمال رہتا ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں جو احادیث رد کی گئیں ہو سکتا ہے اُن میں کوئی صحیح بھی ہو،  یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جو احادیث لی گئی ہیں اُن میں کوئی غلط حدیث شامل نہ ہو گئی ہو۔
ایسے حالات میں ہم کس طرح احادیث کو قرآن کے بیان کیے گئے معیار کے مطابق بیان کر سکتے ہیں؟
ہمیں مختلف محدثین کی بیان کی گی احادیث کو ثابت کرنے کے لیے وہی معیار اپنانا چاہیے جو انہوں نے احادیث کو جمع کرنے کا بنایا تھا نہ کہ وہ معیار جو قرآن کریم کی حقانیت کا ہے۔ اگر آج مجھے قرآن کریم کا سلسلہ روایت معلوم نہ ہو تو اس سے قرآن کریم کی حقانیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کہ قرآن کے الہامی ہونے کا معیار خود قرآن میں مذکور ہے، مگر حدیث کے سلسلہ روایت میں  ایک راوی نہ ملے تو علماء کے نزدیک وہ حدیث مشکوک ہو جاتی ہے۔
 اگر کوئی محدثین کے بیان کیے گئے معیار سے متفق نہیں تو وہ اپنا معیار بتائے کہ احادیث کے صحیح ہونے کا کیا معیار ہونا چاہیے؟ اس پر اگر کسی کا جواب ہو کہ وہ صرف ایسی احادیث کو درست تسلیم کرے گا جو قران کے مطابق ہونگی تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔جہاں محدثین کرام نے اپنے اپنے معیار اپنائے دوسروں کو بھی اپنا لینے دیجیے۔ ہاں اگر کوئی کہے کہ حدیث کی فلاں کتاب سے فلاں حدیث نکال دی جائے تو یہ علمی بددیانتی ہوگی۔ کسی کتاب سے مصنف کی مرضی کے بغیر  ایک فقرہ نکال دینے کے بعد وہ اس مصنف کی طرف تو منسوب نہیں کی جا سکتی۔اگر کوئی صحیح بخاری سے 50 احادیث نکال کر شائع کرتا ہے تو پھر صحیح بخاری کو امام بخاری ؒ کی طرف منسوب نہیں کی جا سکتی ، اسے احادیث نکالنے والے کی ترتیب و تدوین کہا جائے گا۔
اکثر ایسی صورتحال بھی پیش آتی ہے کہ اگرکوئی احادیث میں بیان کی گئی ایسی بات کا انکار کردیتا ہے جو اسے قرآنی آیات کے مطابق نہیں لگتی تو اس پر بغیر سوال کیے یہ کہہ کر  کافر  ہونے کا فتویٰ داغ دیا جاتا ہے کہ یہ  ہمارے علماء کا متفقہ فیصلہ ہے کہ جو اس بات کا مخالف ہو کافر ہے۔ اللہ کے بندو، کسی کے کافر مسلمان ہونے کا فیصلہ قرآن کی روشنی میں ہونا چاہیے یا علماء کرام کی رائے شماری سے ؟ اگر کسی کے نزدیک قرآن سے ایک بات ثابت ہو جاتی ہے اور حدیث قرآنی آیت سے اختلاف کر رہی ہے تو اُس شخص سے کوئی سوال کیے بغیر صرف علماء کے کہنے پر کفر کا فتویٰ لگا دینا ،کیا  یہود کی طرح اپنے علماء کو اپنا معبود بنانا نہیں؟ آپ لوگ احادیث کی حقانیت کو ضرور ثابت کریں۔ پوری دنیا میں کوئی مسلمان ایسا نہیں ہو سکتا جو کہے کہ جو نبی کریم ﷺ نے کہا ہے وہ میں نہیں مانتا۔ لیکن اگر کوئی کہے کہ یہ بات قرآن کے مخالف ہے، نبی کریم ﷺ ایسی بات کہہ نہیں سکتے تھے تو اس پر کس خوشی میں منکر حدیث کا فتویَ ؟ اس مسئلے میں احسن حدیث یعنی قرآنی آیت، جو نبی کریم ﷺ کے الفاظ ہی ہیں، کو تو وہ مان رہا ہے۔ ظاہری طور پر تو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ کفر کا فتویٰ احادیث کا انکار کرنے پر نہیں، اپنے علماء کی بات سے اختلاف کرنے پر دیا گیا ہے۔
قرآن بالکل حق ہے۔ وہ تمام احادیث جو قرآنی احکامات کے مطابق ہوں وہ بھی درست ہیں، مگر قرآن کا اپنا معیار ہے اور حدیث کااپنا  معیار ہے۔ ایک الہامی  کلام ہے ، دوسرا انسانی۔ اس لیے انسانی کلام کو ثابت کرنے کے لیے الہامی کلام سے الزامی سوالات نہیں کرنے چاہیں، کیونکہ الہامی کلام کو ثابت کرنے کا معیار اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان کر دیا ہے، جس پر اگر انسانی کلام کو پرکھا جائے گا تو وہ کبھی بھی معیار پر پورا نہ اترے گا۔  
میں نے بہت سے دوستوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی  ، احادیث کے بارے میں مباحث کرتے ہوئے قرآن پر الزامی سوالات نہ کیے جائیں، مگر اُن دوستوںکا جواب ہوتا ہے کہ
” قرآن پر اعتراض کرنے کے دو مقاصد ہوتے ہیں۔ ایک تعمیری اور دوسرا تخریبی ۔
تعمیری کا مقصد جستجو یا کسی مخالف سے کوئی بات اگلوانا، اور تخریبی کا مقصد صرف اور صرف اعتراض در اعتراض القرآن الکریم میں عیب نکالنا ( نعوذ باللہ من ذلک )۔ اور الحمد للہ ثم الحمد للہ ہماری جانب سے اگر اعتراض کیا بھی گیا ہےتو ہمیشہ سے اول الذکر تعمیری اعتراض ہی کیا گیا ہے۔ “
مجھے اپنے محترم دوستوں کے تعمیری جذبے  پر کوئی شک نہیں ۔ میرا خیال ہے کہ آپ کی تعمیری کوششوں کو تخریبی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سب سے پہلے تو عرض یہ ہے کہ سب مسلمانوں کو ہر طرح کی تعمیری اور اصلاحی کوششیں شروع کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ کہیں ہم انجانے میں ایسا  فساد تو نہیں پھیلا رہے جس کا ہم کو پتہ بھی نہ ہو(سورۃ البقرہ آیت 11، 12)۔ اب ہمارے وہ   دوست جو  قرآن پر الزامی سوالات سے تعمیری کوششیں کر رہے ہیں اس کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ وہ جانتے بوجھتے یا انجانے میں مستشرقین کے اعتراضات کو ایسے لوگوں تک پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں جو پہلے ہی یہاں  غیرمسلموں اور دہریوں کے نرغے میں ہوتے ہیں۔ اور دہریے اُن دوستوں کے بیان کیے ہوئے اعتراضات کومسلمان بچوں کو بہکانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔  ہمارے محترم دوست احادیث پر کیے گئے  اعتراضات کے جواب اس طرح دیتے ہیں کہ ،جو جواب قرآن پر عائد اس اعتراض کا ہے وہی جواب احادیث پر عائد اعتراضات کا ہو گا۔ اب یہ جواب کیا ہو گا؟ یہ محترم دوستوں نے کبھی بتانے کی کوشش ہی نہیں کی ۔ارے بھائی آپ لوگ اعتراض بتا رہے ہو تو جواب بھی تو بتاؤ۔ اسی فرقہ پرست رویے سے تنگ لوگ   قرآن پرایسے اعتراضات کے بارے میں جان لیتے ہیں جو اُن کو پہلے نہیں معلوم تھے۔اس سے لوگ احادیث پر اپنا ایمان کیا مضبوط کریں گے الٹا  قرآن سے بھی برگشتہ ہو جاتے ہیں۔ اس تمام صورت حال  کے بعد  ہمارے محترم دوست کہتے ہیں کہ کسی  بھی حدیث کاانکار کرنے کی آخری منزل دہریت ہے۔  اسے دہریت تک پہنچانے میں مسلمان بھائیوں کا بھی کچھ نہ کچھ کردار ہے ، جو کوئی ماننے کو تیار نہیں۔ایسا کرنے میں اُن لوگوں کا بھی حصہ ہے جو اعتراضات تو کھل کر چھاپتے ہیں مگر جواب کو ہتھیار سمجھ کر چھپا کر رکھتے ہیں کہ بحث کے دوران سب سے آخر میں دیں گے۔
ہمارے محترم دوستوں کو چاہیے کہ اپنی تعمیری کوششیں بالکل جاری رکھیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ضرور اس کا اجر دے گا۔ مگر ان کوششوں میں وہ جانے انجانے، مستشرقین کے بیان کیے ہوئے اعتراضات کاپی پیسٹ کر کے،  دہریت کے ہاتھ مضبوط نہ کریں۔ہدایت دینا نہ دینا اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے مگر ہمیں اپنی کوششیں اس طرح جاری رکھنی چاہیے کہ کسی کو اسلام کے کسی گوشے پر اعتراض کرنے کا موقع نہ مل سکے۔ اگر کہیں الزامی سوال پیش کرنا پڑے تو فوراً ہی اس کا بہترین جواب بھی پیش کیا جائے۔اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔

 (تحریر: 8 اگست 2014، ترمیم: 9 اپریل 2017)